جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی؛ مقامی آبادی کی شناخت، روزگار، زمین اور دیگر حقوق کو لاحق خاطرات

17

اسلام آباد، 4 اگست (اے پی پی): یومِ استحصال کشمیر ہر سال 5 اگست کو منایا جاتا ہے تاکہ اس دن کو یاد رکھا جا سکے جب 2019 میں جموں و کشمیر سے متعلق آئینی حیثیت میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور عالمی برادری کی توجہ اس خطے کی صورتحال کی طرف مبذول کروانا ہے۔

5 اگست 2019 کو بھارت کی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے میں تبدیلی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا۔ ان آئینی ترامیم کے بعد جموں و کشمیر کو ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں کے انتظامی، قانونی اور سماجی ڈھانچے پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔

ان تبدیلیوں کے بعد مقامی آبادی کو خدشات لاحق ہوئے کہ ان کی شناخت، روزگار، زمین اور دیگر شہری حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ مختلف حلقوں کی جانب سے ان اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مقامی عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دیے جائیں۔

یومِ استحصال کے موقع پر پاکستان میں مختلف تقریبات، مذاکرے اور نمائشوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جن کا مقصد اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور کشمیری عوام کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور انسانی ہمدردی کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔