لاہور۔21اگست (اے پی پی):ذمہ دارانہ ڈیزاسٹر رپورٹنگ نہ صرف عوامی خدمت ہے بلکہ یہ ریاستی اداروں، میڈیا اور کمیونٹی کے درمیان تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے پاکستان کو محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے،عوام کو درست معلومات سے آگاہ کرنا میڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ان خیالات کااظہار مقررین نے جمعرات کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) لاہور میں “ذمہ دارانہ ڈیزاسٹر رپورٹنگ” کے موضوع پر ایک اہم پینل ڈسکشن میں کیا جس میں ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی شفقت عباس، پی آئی ڈی افسران لئیق باجوہ، ارسلان طاہر، عتیق الرحمن صحافیوں ارسلان رفیق بھٹی، عمردراز گوندل ، شفیق شریف ، الفت مغل، دانیال راٹھور، میاں شاہد،شیخ رشید ودیگر نے شرکت کی۔ اس گفتگو کا مقصد میڈیا کے کردار کو اجاگر کرنا تھا کہ وہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کی رپورٹنگ کو ذمہ داری کے ساتھ کس طرح انجام دے سکتا ہے تاکہ عوام کو درست معلومات فراہم ہوں اور ریاستی اداروں، میڈیا، اور کمیونٹی کے درمیان تعاون کو مضبوط بنا کر پاکستان کو محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جایا جا سکے۔مقررین نے زور دیا کہ قدرتی آفات کے دوران میڈیا کی سب سے بڑی عوامی خدمت یہ ہے کہ وہ ریلیف کیمپوں کے پتے، ایمرجنسی نمبرز، خون کے عطیے کی اپیلیں، موسمیاتی الرٹس اور حکومتی ہدایات کو ترجیحی بنیادوں پر نشر کرے تاکہ متاثرہ افراد تک بروقت اور درست معلومات پہنچ سکیں۔ ارسلان رفیق بھٹی نے کہا کہ میڈیا کا کردار صرف خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے جو متاثرین، امدادی اداروں اور عوام کو جوڑتا ہے۔گفتگو میں سنسنی خیز رپورٹنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شفیق شریف نے کہا کہ ریٹنگ بڑھانے کی دوڑ میں ایسی رپورٹنگ عوام میں خوف پھیلاتی ہے، جھوٹی افواہوں کو جنم دیتی ہے اور ریسکیو آپریشنز میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سے نہ صرف متاثرین کی مشکلات بڑھتی ہیں بلکہ میڈیا پر عوام کا اعتماد بھی کمزور پڑتا ہے۔ صحافیوں کو ہدایت کی گئی کہ متاثرہ افراد کی کوریج کرتے وقت ان کی اجازت لی جائے خصوصا بچوں اور خواتین کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے اور ان کی تکالیف کو “ریٹنگ”کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔پینل میں سوشل میڈیا کے کردار اور اس سے جڑے چیلنجز پر بھی بات ہوئی۔ دانیال راٹھور نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران سوشل میڈیا پر جھوٹی اور غیر مصدقہ معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں جو افراتفری کا باعث بنتی ہیں۔ اس لیے صحافیوں کو “Verification first,breaking later”کے اصول پر عمل کرنا چاہیے، یعنی خبروں کی تصدیق کے بعد ہی انہیں نشر کیا جائے۔ الفت مفل نے تجویز دی کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور نئے صحافیوں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کو اپنائیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ سوشل میڈیا نے صحافت کے قواعد و ضوابط کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، اس لیے رولز اینڈ ریگولیشنز پر سنجیدگی سے عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔ میاں شاہد نے کہا کہ پاکستان کو قدرتی آفات کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پائیدار اور معیاری تعمیرات کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے ساتھ غیر معیاری تعمیرات مسائل کو بڑھا رہی ہیں۔ عمردراز گوندل نے حکومت، اداروں، اور اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ جامع پالیسی سازی اور مضبوط شراکت داری کے ذریعے خطرات میں کمی کے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ رپورٹرز کے مسائل کے لیے ایک فورم بنایا جائے جہاں وہ کھل کر بات کر سکیں۔ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات چلانے کی تجویز بھی سامنے آئی۔ مقررین نے کہا کہ بچوں کو شجرکاری کی سرگرمیوں میں شامل کر کے ان کی حوصلہ افزائی انعامات اور نمبروں کی صورت میں کی جانی چاہیے تاکہ ماحولیاتی شعور بیدار ہو اور آنے والی نسلوں میں ماحول دوست رویوں کو فروغ ملے۔ڈی جی پی آئی ڈی شفقت عباس نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ قوم کو قدرتی آفات سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ان سے نمٹنے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی ڈی کے زیراہتمام اہم قومی ایشوز پر سیمینارز اور پینل ڈسکشنز کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ مسائل کے حل تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے صحافیوں کی تجویز پر یقین دہانی کرائی کہ صحافیوں کی تربیت اور دور حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے کردار کو مزید موثر بنانے کے لیے تعاون اور رہنمائی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ پینل ڈسکشن ذمہ دارانہ ڈیزاسٹر رپورٹنگ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا جس میں میڈیا کے کردار، چیلنجزاور ممکنہ حل پر جامع بات چیت کی گئی۔ اس سے نہ صرف میڈیا کے پیشہ ورانہ معیارات کو بہتر بنانے کی راہ ہموار ہوئی بلکہ پاکستان کو قدرتی آفات کے خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی تشکیل میں بھی مدد ملے گی۔











