سیلاب کے خطرات سے بچائو کیلئے دریا کے کنارے تعمیر کیے گئے تمام غیرقانونی و غیرمحفوظ ریزورٹس مسمار کیے جائیں گے،کسی کو رعایت نہیں ملے گی،وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک

7

اسلام آباد۔27اگست  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہےکہ وفاقی حکومت نے ایک حکمت عملی تیار کرلی ہے جس کے تحت دریا کے کنارے تعمیر ہونے والے تمام غیرقانونی اور غیرمحفوظ ریزورٹس کو سیلاب کے خطرات سے بچنے کے لیے گرایا جائے گا اور کوئی بھی چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس فیصلے سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف پاکستان  (آئی کیپ) اور چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ اکائونٹنسی  (سی آئی پی ایف اے)کے باہمی تعاون سے”پائیدارعوامی مالیاتی نظم و نسق کے نظام کی تشکیل “ کے عنوان سے کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں ماحولیاتی، سماجی، گورننس اور پائیداری کے عالمی رجحانات پرمنعقدہ سیشن کی صدارت وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ لگژری ریزورٹس چاہے قانونی ہوں یا غیرقانونی، محض عمارتیں نہیں ہیں، سیلاب میں یہ میزائل بن کر نیچے کے دیہات کو تباہ کر دیتے ہیں، جانیں اور روزگار برباد کر دیتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کو ہٹانے کے لیے واضح ہدایات دی ہیں اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم یہ سب مسمار کریں گے، کوئی رعایت نہیں، کوئی استثنیٰ نہیں۔انہوں نے کہا کہ دریا کنارے غیرمنظم تعمیرات نے سیلاب کے اثرات کو مزید بڑھا دیا ہے اور پاکستان کو موسمیاتی لحاظ سے مزید کمزور کر دیا ہے، پاکستان کو ہمالیہ کے 7,000 سے زائد گلیشیئرز سے آنے والے دریائوں کی وجہ سے بار بار فلیش فلڈز اور گلیشیئر جھیل پھٹنے  کے خطرات لاحق رہتے ہیں، جب گلیشیائی جھیلیں پھٹتی ہیں تو پانی اور چٹانوں کی دیوار چھوڑتی ہیں، ان کے راستے میں آنے والی کوئی بھی رکاوٹ تباہی کا ہتھیار بن جاتی ہے۔ڈاکٹر مصدق  ملک نے اس بحران کو عالمی ماحولیاتی ناانصافی سے جوڑا اور کہا کہ دنیا کی چند بڑی معیشتیں دنیا کے تقریباً تین چوتھائی کاربن اخراج کی ذمہ دار ہیں جبکہ پاکستان جیسے کمزور ممالک متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن ہم بدترین متاثرین میں شامل ہیں، پھر بھی اس تباہی کے ذمہ دار ممالک گرین کلائمیٹ فنڈ کا تقریباً 80 فیصد استعمال کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کی مدد کرے گی تاکہ شہری نکاسی آب کو مضبوط بنایا جائے، آفات کی تیاری اور زوننگ پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے، پنجاب، سندھ، کے پی، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرتمام صوبوں اور خطوں کو یکساں تعاون ملے گا، وفاق ہر شہر کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صلاحیت میں خلا ہے کہ وہ عالمی فنڈز تک بہتر رسائی حاصل کر سکےاور کہا کہ مضبوط تکنیکی صلاحیت اور بہتر منصوبے درکار ہیں، یہ صرف دنیا کی غلطی نہیں ہے، جب تک ہم اپنی بہتری نہیں کریں گے، ہم مواقع کھوتے رہیں گے۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ایک موجودہ اور ناقابل تردید حقیقت قرار دیتے ہوئے مقامی اصلاحات اور عالمی انصاف، دونوں کی فوری ضرورت پر زور دیا،ہم تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، غیرمحفوظ دریا کنارے تعمیرات کو ختم کرنا ہوگا، ہمارے شہروں کو تیار کرنا ہوگااور دنیا کو انصاف فراہم کرنا ہوگا۔