اسلام آباد، 28 اگست (اے پی پی ) :سینیٹر کامل علی آغا کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) پر بلیک لسٹ کمپنی کو ٹھیکے دینے اور پارلیمانی ادارے کے ساتھ مسلسل عدم تعاون پر کڑی تنقید کی گئی۔ اجلاس میں سینیٹر کامل علی آغا کے علاوہ سینیٹر ضمیر حسین گھمرو اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے شرکت کی۔ کمیٹی نے ٹرانچ تھری راجن پور، ڈی جی خان کی تحقیقات کے لیے ٹرمز آف ریفرنس (TORs) ، – ڈی آئی خان اے آر ای سی پروجیکٹ اور نان پرفارمنگ کمپنی ہونے کے باوجود لودھراں-ملتان پروجیکٹ سے این ایکس سی سی ثالثی کی منظوری کا جائزہ لیا۔
کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے مواصلات، سیکریٹری اور این ایچ اے کے چیئرمین کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی عدم شرکت کو پارلیمنٹ کی توہین قرار دیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کے بارے میں این ایچ اے کا رویہ مضحکہ خیز ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ دستاویزات کہاں ہیں جو 12 اگست کو جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھیں؟۔
سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے متنبہ کیا کہ اس رویئے پر پارلیمنٹ کی توہین کا نوٹس جاری کیا جاسکتا ہے۔ چیئرمین سینیٹر کامل علی آغا نے مزید کہا کہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہوا تو معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوایا جائے گا، وزیراعظم نے خود نوٹس لیا ہے، نو افسران کو معطل کر دیا گیا ہے یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔
بریفنگ کے دوران این ایو اے حکام نے اعتراف کیا کہ کمپنی کو خط لکھا گیا تھا جس میں اس کے مالیاتی گوشوارے اور اعدادوشمار مانگے گئے تھے، لیکن ٹھیکیدار کمپنیوں نے مالی اعداد و شمار فراہم کرنے سے صاف انکار کردیا۔ سینیٹر گھمرو نے سوال کیا کہ اگر این ایچ اے کے پاس تکنیکی اور مالیاتی دستاویزات نہیں تھیں تو ٹھیکہ پہلے کیسے دیا گیا؟
واضح طور پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر ابڑو نے ریمارکس دیے کہ یہ ہمارے ملک کی قسمت کا معاملہ ہے۔ این این ایکس سی سی حکومت پاکستان کا مذاق اڑا رہا ہے۔
کمیٹی نے مزید انکشاف کیا کہ این ایچ اے مبینہ طور پر کمیٹی ممبران پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ پورا ادارہ اس بدعنوانی میں ملوث ہے، چیئرمین آغا نے کہا جبکہ سینیٹر ابڑو نے متنبہ کیا کہ اگر چیئرمین اور سیکریٹری کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں کرتے تو یہ سمجھا جائے گا کہ دونوں ہی کرپشن میں ملوث ہیں۔
ذیلی کمیٹی نے گلگت – شندور روڈ پراجیکٹ پر کام کرنے والی این ایکس سی سی سمیت کمپنیوں کو دی گئی مبینہ غیر قانونی ٹیکس چھوٹ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اس نے این ایچ اے کو ان چھوٹوں کا فوری نوٹس لینے اور تحقیقات کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی سفارش کی۔
تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، سینیٹر ابڑو نے نوٹ کیا کہPPRA کے فیصلے پر 24 دنوں میں عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے دانستہ غفلت ظاہر ہوتی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے NHA کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اختیارات کو محدود کرنے والے فوٹ نوٹ کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) سے رجوع کرے۔
خلاصہ کرتے ہوئے، سینیٹر آغا نے زور دیا کہ اگر این ایچ اے کے ہاتھ صاف ہیں تو کمپنی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، بصورت دیگر اس کمیٹی کے پاس اپنا فیصلہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
ذیلی کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ این ایکس سی سی بولی جعلی ہے اور باضابطہ طور پر کمپنی کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کی۔ اس نے سیکرٹری کمیونیکیشنز اور چیئرمین این ایچ اے دونوں کو بے ضابطگیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ اس بات کا اعادہ کیا کہ بڑے ٹھیکے ایک ہی کمپنی کو مسلسل دیے جا رہے ہیں، جس سے ادارہ جاتی پیچیدگی کے سنگین خدشات ہیں۔