اسلام آباد۔29 اگست)اے پی پی) :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی،ترقی وخصوصی اقدامات نے ایم 6منصوبے کے حوالہ سے این ایچ اے کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بلاتاخیر کام شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے منصوبے کا آغاز اکتوبر 2025 تک یقینی بنانے اور ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے پرمعاملہ ایوانِ بالا کو بھیجنے کی بھی ہدایت کی ۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کویہاں چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد اور اہم ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹرز جام سیف اللہ خان، شہادت اعوان، عطا الرحمٰن، سعدیہ عباسی اور مشعال اعظم نے شرکت کی۔ اجلاس میں کمیٹی کو پہلے جاری کی گئی 22 سفارشات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے کمیٹی کوبتایا کہ کہ ان میں سے متعدد سفارشات پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے جبکہ باقی ابھی زیر غور ہیں۔ کمیٹی نے سینیٹ ارکان کی جانب سے تجویز کردہ منصوبوں پر بھی عملدرآمد رپورٹ طلب کی تاہم وزارت نے ان منصوبوں کی تفصیلات پیش کرنے کے لئے مزید وقت مانگ لیا۔ چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کو طلب کر کے عملدرآمد رپورٹس پیش کی جائیں۔کمیٹی کوسرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی)کے حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈکی جانب سے دی گئی تجاویز پر بھی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے کئی شعبوں پر مشتمل ایک سوالنامہ بھجوایا تھا جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ کا براہ راست تعلق منصوبہ بندی کمیشن سے تھا۔ یہ سوالنامہ مکمل کر کے 20 مارچ 2025 کو آئی ایم ایف کو بھجوایا گیا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے حوالہ سے کمیٹی کوبتایاگیا کہ منصوبوں میں ترجیحات کا فقدان، بار بار تاخیر، اخراجات میں اضافہ اور منظور شدہ منصوبوں کے لئے مالی وسائل کے تحفظ میں کمزوری جیسے بڑے نقائص سامنے آئے ہیں۔ چیئرپرسن نے کمیٹی کی سابقہ سفارشات کے مطابق نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے جاری منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پرزوردیا۔وزارت کی جانب سے کمیٹی کو انٹیلی جینٹ پراجیکٹ آٹومیشن سسٹم کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو ترقیاتی عمل کو مؤثر بنانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے انضمام سے تفصیلی بجٹ سازی اور بجٹ کے اجراء کو خودکار بنانے میں مدد ملے گی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے کمیٹی کو سکھر–حیدرآباد–کراچی موٹروے ایم 6اور کراچی–کوئٹہ–چمن روڈ این 25 پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ارکان کو بتایا گیا کہ ایم 6حیدرآباد سے سکھر تک پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں نوشہرو فیروز–رانی پور اور رانی پور–سکھر کے دو حصوں کو ترجیح دی جا رہی ہے اور بورڈ کی منظوری ستمبر 2025 میں متوقع ہے۔چیئرپرسن کمیٹی نے ایم 6منصوبہ کے حوالہ سے این ایچ اے کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بلاتاخیر کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کمیٹی کی سابقہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ این ایچ اے پہلے ہی چار ماہ ضائع کر چکی ہے اور اب مزید چار ماہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے فیصلے کے لئے مانگ رہی ہے۔ چیئرپرسن نے منصوبے کا آغاز اکتوبر 2025 تک یقینی بنانے اور ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے پرمعاملہ ایوانِ بالا کو بھیجنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں اقتصادی امور ڈویژن اور دیگر متعلقہ محکموں کو طلب کیا جائے تاکہ منصوبے پر بروقت عملدرآمد کے اقدامات پر بریفنگ دی جا سکے۔