تیانجن، 31 اگست ( اے پی پی):وزیر اعظم نے تیانجن یونیورسٹی میں نیشنل ارتھ کوئیک سمولیشن سینٹر کا دورہ کیا ہے،وزیراعظم نے چین کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تعریف کی-
اس موقع پر وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ چین میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی اور طریقے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوں گے، اس ضمن میں چینی مہارت سے مستفید ہونے سے پاکستان میں مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر احتیاطی تدابیر اور لائحہ عمل استعمال کیے جا سکیں گے –
انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں موجود بین الاقوامی میڈیکل سینیٹر اور چین پاکستان جوئنٹ لیب جیسے منصوبوں کو مزید فعال بنایا جائے اور اس ضمن میں چین اور پاکستان کی مابین شراکت داری کو مزید توسیع دی جائے-
نیشنل ارتھ کوئیک سیمولیشن سینٹر میں وزیراعظم کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو ٹیکنالوجیز بشمول نئی تیار کردہ میڈیکل ریسکیو گاڑیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی-
وزیراعظم کو قدرتی آفات کے لیے احتیاطی تدابیر کے لیے تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی –
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چین اور پاکستان کے تعاون سے اس ضمن میں کئی منصوبے موجود ہیں اور متعدد پر کام جاری ہے جبکہ
ان منصوبوں میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو کے تحت تعمیر شدہ چائنا پاکستان جوئنٹ لیب فار ڈزاسٹر اینڈ ایمرجنسی میڈیسن، بین الاقوامی میڈیکل کواپریشن سینٹر، چین پاکستان فرینڈشپ ہسپتال اور دیگر منصوبے شامل ہیں-