وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان اور ازبک سفیر کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال

8

اسلام  آباد، 01 اگست (اے پی پی): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان سے ازبکستان کے سفیر  علیشیر تختیو نے ملاقات کی، جس میں ازبکستان کے آئندہ دورے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے وزیراعظم کے وژن اور ہدایات کی روشنی میں تجارتی، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کےممکنہ معاہدوں پر بھی غور کیا گیا۔

گفتگو کے اہم نکات میں تجارتی تعاون، بی ٹو بی ملاقاتیں، اور پشاور میں ایک وئیر ہاؤس کے قیام کے منصوبے شامل تھے تاکہ تجارتی روابط اور لاجسٹکس کو فروغ دیا جا سکے۔ دونوں معزز شخصیات نے صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، مائننگ اور منرلز کے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ہارون اختر خان نے ٹریکٹر اور مائننگ انڈسٹری میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کو اجاگر کیا اور ازبکستان کے ساتھ 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای کامرس اور بینکاری کے شعبوں میں ملاقاتیں ہوں گی۔ اس موقع پر ازبک سفیر نے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور ہارون اختر خان کو ازبکستان کے ٹیکنو پارک کے دورے کی دعوت دی۔

ازبک سفیر نے پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں بھی دلچسپی ظاہر کی، جس پر ہارون اختر خان نے بتایا کہ ازبکستان سالانہ 3 ارب ڈالر کی فارما مصنوعات درآمد کرتا ہے، جو پاکستان کی فارما صنعت کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ای کامرس جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا تاکہ جدید ترقی اور اقتصادی نمو کو ممکن بنایا جا سکے۔

ملاقات کے اختتام پر، ہارون اختر خان نے خیر سگالی کے طور پر اور پاکستان و ازبکستان کے مضبوط ہوتے تعلقات کی یاد میں ازبک سفیر علیشیر تختیو کو روایتی تحفہ پیش کیا۔