وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی قومی صنعتی پالیسی پر اعلیٰ سطحی اجلاس

10

اسلام آ باد،21اگست(اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، ایف بی آر کے چیئرمین اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے ساتھ قومی صنعتی پالیسی کے خدوخال پر غور کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں توانائی کی لاگت کم کرنے، گرین انرجی کے فروغ، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام کو اپ گریڈ کرنے اور صنعتی شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت قومی صنعتی پالیسی ملک میں صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کا ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پالیسی نجی و سرکاری اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مرتب کی گئی ہے اور اس میں صنعتوں کو درپیش اہم چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع پیکج شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پالیسی میں بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی، کریڈٹ تک بہتر رسائی، سرکاری اداروں کی بلاجواز مداخلت سے بچاؤ اور دیوالیہ قوانین میں اصلاحات شامل ہیں۔ مزید یہ کہ ایک قومی صنعتی بحالی کمیشن قائم کیا جائے گا جو نفاذ کی نگرانی اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام فراہم کرے گا۔

سرمایہ کاروں کے اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے معاہدوں پر عملدرآمد کو ترجیح دی جائے گی۔ ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ چین کے ماڈل سے متاثر ہو کر اسپیشل اکنامک زونز میں ون ونڈو سروس فراہم کی جائے گی تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو سہل بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے لاگت میں واضح کمی آئے گی اور صنعتوں کو درکار سہولت میسر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے بہتر انفراسٹرکچر اور گرین انرجی پر زیادہ انحصار سے پیداواری لاگت کم ہوگی اور ماحولیاتی تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

سردار اویس لغاری نے مزید کہا کہ قومی صنعتی پالیسی اگلے پانچ برس کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتی ہے جو صنعتوں کو پائیدار بنیادوں پر استحکام دے گی، صنعتی ترقی کو تیز کرے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔