وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت این آئی ٹی بی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات کے حوالے سےاجلاس

14

اسلام آباد،08 اگست (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے  وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے برآمدات کے گزشتہ برس کے ہدف3.8 ارب ڈالر کے حصول کو سراہتے ہوئے   آئندہ برسوں کے سالانہ اہداف اور درکار اقدامات پر جامع لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت این آئی ٹی بی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی  کے اقدامات کے حوالے سے اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت  ڈیجیٹائزیشن سے معیشت کی ترقی اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات  کررہی ہے،آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے پورا ڈیجیٹل ایکو سسٹم اور اس کا انفراسٹرکچر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ این آئی ٹی بی کے بنیادی ڈھانچے کی ازسر نو تنظیم  اور مارکیٹ سے بہترین افرادی قوت کی خدمات حاصل کی جائیں۔ انہو ں نے  نوجوانوں بالخصوص  خواتین کو آئی ٹی کے شعبے میں روزگار کے حوالے سے خود انحصار بنانے کیلئے سینٹرز کے قیام کو خوش آئند قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ای۔آفس کے اطلاق سے سرکاری دفاتر میں پیپر لیس گورننس کی بدولت وقت اور وسائل دونوں کی بچت ہو رہی ہے،ڈیجیٹل یوتھ ہب سے ہزاروں نوجوان باعزت روزگار حاصل کر رہے ہیں،نوجوانون کو انفارمیشن ٹیکنالوجی شعبے میں تعلیم و ہنر فراہم کرکے انہیں بین الاقوامی سطح پر مسابقت کی استعداد سے لیس کر رہے ہیں۔اجلاس کو این آئی ٹی بی کی تنظیم نوکے حوالے سے  پیش رفت اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025 میں وزارت کے اقدامات کی بدولت پاکستان کی آئی ٹی شعبے کی برآمدات نے 19 فیصد نمو کے ساتھ 3.8 ارب ڈالر کا ہدف عبور کیا جبکہ ملک میں فری لانسرز کی تعداد میں 91 فیصد اضافہ ہوا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے تحت 386 نئے اسٹارٹ۔اَپس کو معاونت فراہم کی گئی، 14 کو عالمی سطح پر بھیجا گیا جبکہ ملک کے 26 شہروں میں 40 ای۔روزگار مراکز قائم کئے گئے،4 پاکستانی ٹیمیں بلیک۔ہیٹ ایم ای اے  میں دنیا کی 50 بہترین ٹیموں میں شمار ہوئیں جبکہ 700 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں ہوئیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار طلباء و طالبات کو آئی ٹی کی پیشہ ورانہ تربیت  فراہم کی گئی جس میں خواتین کو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کیلئے تقریباِ 1 لاکھ 15 ہزار خواتین بھی شامل ہیں، نیشنل انکیوبیشن سینٹر میں 130 خواتین کی سربراہی میں قائم اسٹارٹ۔اَپس کو معاونت فراہم کی گئی جبکہ ملک بھر میں خواتین کیلئے خصوصی تربیتی مراکز بھی قائم کئے گئے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 2200 وفاقی سرکاری افسران و اہلکاروں کو تربیت فراہم کی گئی،اسی طرح تقریباً 3 ہزار طلباو طالبات کو سائبر سکیورٹی میں تربیت دی گئی۔گورننس کی بہتری کیلئے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پاک ایپ کے ذریعے 6.2 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، وفاقی سرکاری دفاتر میں 98 فیصد ای۔آفس کا اطلاق اور 51 ایسے نئے سسٹمز متعارف کروائے گئے جس سے گورننس کی بہتری میں معاونت ملے گی،ٹیلی کام سیکٹر کے بارے میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارت کے اقدامات کی بدولت گزشتہ برس میں 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد لوگوں کی فور جی تک رسائی کے ہدف کو عبور کیا گیا،گزشتہ مالی سال میں ٹیلی کام کنیکشنز نے 20 کروڑ کی حد کو عبور کیا، 10 لاکھ نئے انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے استعمال میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔اجلاس کو این آئی ٹی بی کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نئے نظام کی تشکیل پر کام تیزی سے جاری اور حتمی مراحل میں ہے،اس وقت این آئی ٹی بی 179 سے زائد ویب سائٹس، 31 سے زائد موبائل ایپلیکیشنز، 113 سے زائد پورٹلز اور 57 کنسلٹنسی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، این آئی ٹی بی کی ازسر نو تنظیم میں صارف کے تجربے کو بہترین، مستقبل کی تبدیلیوں کو ملحوظ خاطر، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر، گورننس و سروس ڈیلیوری کی بہتری، سائبر سکیورٹی، رسک مینجمنٹ، تحقیق، جدت اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کو مد نظر رکھا جا رہا ہے۔وزیر اعظم   نے  تمام اقدامات کی معینہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے اور ملکی آئی ٹی برآمدات کو آئندہ برسوں میں 30 ارب ڈالر پر پہنچانے کیلئے بتدریج سالانہ اضافے پر مبنی اہداف کا لائحہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔