وفاقی وزیر جام کمال خان اور ڈچ سفیر کی ملاقات، تجارت، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

10

اسلام آباد، 01 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے تجارت، جام کمال خان سے پاکستان میں نیدرلینڈز کی سبکدوش ہونے والی سفیر ہینی فوکل ڈی فریز نے الوداعی ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، لاجسٹکس تعاون اور ثقافتی ہم آہنگی کو مزید مستحکم بنانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ملاقات میں زراعت، سبز توانائی (گرین انرجی) اور ڈیجیٹل خدمات جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے اور تجارتی تعلقات کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔ وزیر تجارت نے پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع ـ افریقہ، وسطی ایشیا اور خلیج کے قریب ہونے کو بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی کے لیے ایک اسٹریٹجک برتری قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے، جو پاکستانی کاروباروں کو 12 اہم منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا۔

سفیر فریز نے اعتراف کیا کہ ماضی کی مشکلات کے باوجود ڈچ کاروباری حلقوں کی پاکستان میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر فریزلینڈ کیمپیانا (FrieslandCampina) جیسے اداروں کی پاکستان میں طویل مدتی موجودگی کا ذکر کیا۔

اس پر وزیر تجارت جام کمال خان نے حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں، کاروباری آسانی کے فروغ، اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے فوری پالیسی معاونت کو یقینی بنانے کی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اُن کمپنیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو مقامی روزگار، اختراع، اور برآمدات میں تنوع کا ذریعہ بنیں۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی لاجسٹکس کی جدید کاری کی کوششوں اور ڈچ مہارت کے امکانات،خصوصاً بندرگاہی انفراسٹرکچر، سپلائی چین کی بہتری، اور زرعی صنعت پر مبنی جدت، پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر نے نیدرلینڈز، جرمنی اور بیلجیم میں ٹریڈ روڈ شو کے انعقاد کی تجویز دی تاکہ یورپی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور پاکستانی مصنوعات کی موجودگی کو بڑھایا جا سکے۔

ڈچ ـ پاکستانی کاروباری افراد کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی سراہا گیا، اور سفیر فریز نے کہا کہ دوسرے اور تیسرے نسل کے پاکستانی نژاد افراد اب دونوں معیشتوں کے درمیان تجارتی روابط میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے نوجوان کاروباری جذبے کی تعریف کی اور کہا کہ یورپی سامعین تک پاکستان کی صلاحیت کو تسلسل سے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

ملاقات کا اختتام گرمجوش جذبات اور ایک علامتی تحفے کے تبادلے کے ساتھ ہوا۔ وزیر تجارت جام کمال خان نے الوداعی طور پر مقامی کاریگروں کا تیار کردہ ایک خوبصورت مٹی کا برتن بطور تحفہ پیش کیا، جو پاکستان کی قدیم ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس پر سفیر فریز نے تحفے کی فنکاری اور نرمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی گہری روایات اور سادگی کا عکاس ہے۔

دونوں جانب سے پاکستان اور نیدرلینڈز کے تعلقات کے روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ سفارتی، تجارتی، اور عوامی روابط کے ذریعے مستقل رابطہ اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔