وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا جنیوا میں منعقدہ بین الوزارتی غیر رسمی مکالمہ برائے “سرکلر اکانومی میں سرمایہ کاری کے مواقع ۔ عالمی پلاسٹک معاہدے کے تناظر میں” سے خطاب

14

جنیوا، سوئٹزرلینڈ ، 12 اگست( اے پی پی ):  وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے جنیوا میں منعقدہ بین الوزارتی غیر رسمی مکالمہ برائے “سرکلر اکانومی میں سرمایہ کاری کے مواقع — عالمی پلاسٹک معاہدے کے تناظر میں” سے خطاب کرتے ہوئے پلاسٹک آلودگی کے بڑھتے ہوئے عالمی بحران کے تدارک اور پاکستان کے ماحولیاتی، معاشی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے جامع اور منصفانہ اصلاحات پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر پلاسٹک کے استعمال میں شدید عدم توازن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نہ صرف پلاسٹک کی کھپت میں کئی گنا آگے ہیں بلکہ کم قیمت، آلودہ اور ناقابلِ ری سائیکل پلاسٹک کچرے کو ’’ری سائیکل ایبل‘‘ کے لبادے میں ترقی پذیر ممالک، بشمول پاکستان، برآمد کر دیتے ہیں، جہاں جدید ری سائیکلنگ سہولیات کی کمی کے باعث یہ فضلہ اکثر کھلے لینڈفلز میں پھینکا جاتا ہے، جلایا جاتا ہے یا آبی ذخائر میں شامل ہو کر فضا، مٹی اور پانی کو آلودہ کرتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست انسانی صحت پر پڑتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مغربی یورپ میں فی کس سالانہ پلاسٹک کھپت 150 کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جب کہ پاکستان میں یہ صرف 7 کلوگرام فی کس ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح بالترتیب 8 اور 6 کلوگرام ہے، اور نائیجیریا، ایتھوپیا اور کینیا میں یہ 5 سے 6 کلوگرام کے درمیان ہے۔ یہ ممالک عالمی پلاسٹک کھپت میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالنے کے باوجود ماحولیاتی بوجھ کا سب سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہمارے عوام ایک ایسے مسئلے کی قیمت ادا کر رہے ہیں جو ہم نے پیدا نہیں کیا اور پلاسٹک بحران کو گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک اور ناانصافی بننے نہیں دیں گے۔

وفاقی وزیر نے عالمی پلاسٹک معاہدے کے تحت دو بڑے اقدامات کی تجویز پیش کی جن میں ایکسٹینڈڈ کنزیومر ریسپانسبلٹی فریم ورک شامل ہے، جس کے تحت پلاسٹک آلودگی کی ذمہ داری کو صرف فضلے کے ضائع کرنے پر نہیں بلکہ کھپت کی مقدار سے منسلک کیا جائے، اور ایسے ممالک جہاں فی کس سالانہ کھپت 100 کلوگرام سے زائد ہو، انہیں پلاسٹک فنڈ میں مالی تعاون فراہم کرنا ہوگا تاکہ ترقی پذیر ممالک میں جدید ری سائیکلنگ پلانٹس، چھانٹنے کے مراکز اور تکنیکی سہولیات قائم کی جا سکیں۔ دوسری تجویز گلوبل پلاسٹک کریڈٹ مارکیٹ کے قیام کی تھی، جس کے تحت ایسے ترقی پذیر ممالک جو پلاسٹک کی ری سائیکلنگ، کچرے کے انتظام اور آلودگی کی روک تھام میں قابلِ پیمائش پیش رفت کریں، انہیں پلاسٹک کریڈٹس سے نوازا جائے، جنہیں ترقی یافتہ ممالک خرید کر اپنے ماحولیاتی اہداف پورے کر سکیں گے اور حاصل شدہ رقوم ری سائیکلنگ نظام، فضلہ اکٹھا کرنے کے ڈھانچے اور غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کی فلاح و بحالی پر خرچ ہوں گی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے صاف اور صحت مند ماحول کے حق کا دفاع کر رہا ہے بلکہ ایک زیادہ منصفانہ اور ذمہ دار عالمی معیشت کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، جہاں کوئی ملک پلاسٹک فضلے کا ڈمپنگ گراؤنڈ نہ بنے۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک آلودگی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور خودمختاری کا معاملہ ہے اور پاکستان اس جدوجہد میں قیادت کے لیے تیار ہے تاکہ آئندہ نسلیں دریاؤں، زمین اور فضاؤں کو زہریلے فضلے سے پاک ورثے میں پائیں۔