‎پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں ، وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

25

‎اسلام آباد،3اگست (اے پی پی):وزیرا عظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ ثقافت اور مذہب پر مبنی ہیں، پاکستان اور ایران کی قیادت باہمی تجارت کے حجم کو جلد از جلد 10 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔
‎ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ اتوار کو یہاں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کے تبادلہ کی تقریب کے موقع پرمشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔
‎وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اورپاکستان میں ایران کے سفیر اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے برادر اور دوست ملک کے صدر پہلی مرتبہ بطور صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی آپ کے دورے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران ہم نے بھائی چارہ، باہمی تعلقات، مذہبی ، ثقافتی اور جغرافیائی شعبوں سمیت جامع تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر پاکستان کےلئے محبت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے حکومت اور پاکستان کے عوام کی جانب سے جنگ میں ایران کے سائنسدانوں ، جرنیلوں اور دیگر شہدا کےلئے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی دلیرانہ اور دانشمندانہ قیادت میں ایرانی افواج اور عوام نے شجاعت کے ساتھ مقابلہ کیا اور ایرانی میزائلوں کی بارش میں اسرائیلی دفاع کو بری طرح بے نقاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن مقاصد کےلئے جوہری طاقت کا پورا حق حاصل ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے پاکستان ، ایران کے اصولی موقف کے ساتھ کھڑا ہے۔
‎وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج کئی معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کئے ہیں، میری دعا ہے کہ یہ ایم او یوز جلد معاہدوں میں بدل جائیں –
‎ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور ایران کا موقف ایک ہے، کسی قسم کی دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا-
‎ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے قرآنی آیات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہمارا دوست اور ہمسایہ ملک پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور حکومت کی جانب سے شاندار میزبانی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دوستی تعلقات گہرے تاریخی اور ثقافتی رشتوں سے منسلک ہے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران پاکستان کو اپنا ہمسایہ ہی نہیں بلکہ بھائی سمجھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعلقات اور تعاون کو مزید وسعت دے کر ہم باہمی تجارت کو 3 ارب ڈالر سے بہت جلد 10 ارب ڈالر کے ہدف تک توسیع دے سکتے ہیں۔ آج ہم نے سیاست، ثقافت وغیرہ کے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کےلئے متحدد دستاویزات پر دستخط کئے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ، سائنس وٹیکنالوجی، ثقافت ، سیاحت اور کاروباری شعبوں کی ترقی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان اہم معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالہ سے باہمی رابطوں کے فروغ کےلئے پرعزم ہیں۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کی رہداریوں ریل، روڈ اور بحری روٹس کی ترقی ، بارڈر مارکیٹس، مشترکہ فری اکنامک زونز کا قیام ہمارے لئے اشد ضروری ہے جس سے دونوں ممالک کے رابطوں میں استحکام اور وسعت آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں کی جانب سے سرحدی علاقوں میں خطرات کے تناظر میں دونوں ممالک کے عوام کے تحفظ کےلئے باہمی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ایران کے صدر نے کہا کہ علاقائی اور عالمی امور پر دونوں ممالک کی رائے مشترک ہے اور معاشی رابطوں کے فروغ سے ترقی و خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں مہمان نوازی پر ایک مرتبہ پھر اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دورہ ایران کی دعوت بھی دی تاکہ باہمی تعلقات کے فروغ کے عمل کو مزید وسعت دی جاسکے۔قبل ازیں پاکستان اور ایران نے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا، اس حوالے سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔