چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا اجلاس

2

اسلام آباد۔29اگست  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا اجلاس جمعہ کو چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت ہوا جس میں تعلیم کے شعبے سے متعلق مختلف اہم امور پر غور کیا گیا۔کمیٹی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ “دانش سکولز اتھارٹی بل 2025” پر غور کیا جس کا مقصد کم وسائل رکھنے والے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ہے، یہ سکول پہلے صرف پنجاب تک محدود تھے اب انہیں تمام صوبوں میں پھیلایا جا رہا ہے، تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر بل منظور کر لیا۔کمیٹی نے “فاطمہ یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025” پر بھی غور کیا جو سینیٹر ہدایت اللہ خان اور سینیٹر عمر فاروق کی جانب سے پیش کیا گیا۔ وزارت نے وضاحت کی کہ 18ویں ترمیم کے بعد یونیورسٹیز کا قیام صوبوں کا اختیار ہے تاہم اسلام آباد کے دائرہ اختیار میں وزارت چارٹر جاری کر سکتی ہے۔ چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ تمام ضروری قواعد و ضوابط مدنظر رکھے جائیں، بعد ازاں بل کو اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ڈگری کی تصدیق کے مسائل پر بھی بحث کی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 21 سال سے خدمات انجام دینے والے ایک ملازم کی جعلی ڈگری عدالت میں چیلنج ہوئی۔ چیئرپرسن نے ایچ ای سی اور وزارت تعلیم کو ہدایت کی کہ انفرادی کیسز کے حل کے لئے ایک ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے۔ آئندہ اجلاس میں اس پر مفصل رپورٹ پیش کی جائے گی۔پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ملازمین کی مستقلی اور ترقی کے معاملے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ مستقل ملازمین ترقی چاہتے ہیں جبکہ کنٹریکٹ ملازمین مستقلی کے خواہاں ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ وزارت نے اس سلسلے میں سمری وزیرِاعظم کو بھجوا دی ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ملازمین کو انسانی بنیادوں پر ایڈجسٹ کیا جائے۔اجلاس میں انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) کے سفیر نے تنظیم کی کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی۔ چیئرپرسن نے سفارش کی کہ آئی پی او کی معلومات و تعلیم کو سکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے۔کمیٹی نے “نیوٹیک ترمیمی بل 2025” پر بھی غور کیا جس کے تحت بورڈ میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے ایک ایک رکن شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔ وزارت نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی منظوری سے ممکن ہے۔ چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ دونوں ایوانوں سے تصدیق کے بعد ارکان شامل کئے جائیں۔آخر میں سینیٹر ہدایت اللہ خان نے نجی سکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں کا معاملہ اٹھایا۔ چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے نمائندے کو طلب کیا جائے تاکہ تفصیلی بحث کی جا سکے۔اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر فلک ناز، سینیٹر فوزیہ ارشد، سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، سینیٹر راحت جمالی، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر خالدہ اطیب، سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر ہدایت اللہ اور وزارت تعلیم و ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔