اقوام متحدہ، 29 اگست ( اے پی پی): یوکرین میں بڑھتے ہوئے پرتشدد حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ صرف مخلصانہ اور مسلسل مکالمہ، جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہو، ایک پائیدار حل فراہم کر سکتا ہے۔یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں قومی بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس صورتحال کو “المناک اور افسوسناک” قرار دیا اور شہریوں بالخصوص بچوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ سفارتی و ثقافتی اداروں کو پہنچنے والے حالیہ نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
سفیر عاصم نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ویانا کنونشنز کے تحت سفارتی اور قونصل خانوں کی حرمت اور عدم خلاف ورزی (inviolability) ناقابلِ سمجھوتہ ہے اور تمام فریقین کے لیے اس کی پابندی لازمی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ کا بوجھ شہریوں پر نہیں ڈالا جا سکتا، اور یاد دلایا کہ بین الاقوامی انسانی قانون اس حوالے سے بالکل واضح ہے اور اس پر سختی سے عمل ہونا چاہیے۔
حالیہ سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو امید کی ایک کرن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں، قرارداد 2774 اور متعدد مذاکراتی ادوار کی بنیاد پر، بامعنی پیشرفت کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں کسی صورت نہیں رکنی چاہئیں بلکہ ان میں مزید سنجیدگی، گہری شمولیت اور منظم و پائیدار بات چیت کے ذریعے اضافہ ہونا چاہیے۔پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے اس تنازعے کے خاتمے کا پرزور حامی رہا ہے”اور یہ عزم آج بھی اسی طرح برقرار ہے کہ امن کی جستجو جاری رہے گی۔
روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ قیدیوں کے تبادلے کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب نے خبردار کیا کہ جاری خونریزی اور تباہی یہاں تک کہ معمولی ترین سفارتی کامیابیوں کو بھی ختم کر سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی بریفنگ سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر تشدد کو نہ روکا گیا تو امن کی جانب کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ اگر لڑائی میں شدت بڑھی تو سفارتی رفتار ماند پڑ سکتی ہے۔
سفیر عاصم نے زور دیا کہ صرف وہی مکالمہ جو قانون اور باہمی سلامتی پر مبنی ہو، اس تنازعے کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ امن طاقت کے ذریعے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ ایک خلوص پر مبنی اور بامعنی بات چیت سے حاصل ہوگا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر مبنی ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر ایسے حل کی جستجو کے لیے تیار ہے جو امن کو بحال کرے اور چارٹر کے مینڈیٹ کو برقرار رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صرف تکالیف کو طویل کرے گا۔