اقوام متحدہ، 16ستمبر(اے پی پی): پاکستان نے سلامتی کونسل میں یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی، اقوام متحدہ و انسانی ہمدردی کے عملے کی فوری رہائی اور امن عمل کی بحالی پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ سفیر عثمان جدون نے کہا کہ یمن میں بڑھتے ہوئے تصادم، انسانی المیے اور من مانی گرفتاریوں کے باعث خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں ہے جس پر فوری اور متحدہ اقدام کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے مؤقف کے مطابق سب سے پہلے جاری تشدد اور کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں، اس لیے دشمنی کو فی الفور ختم کیا جانا چاہیے۔
دوسرے مرحلے میں حوثیوں کی جانب سے 21 اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور دیگر انسانی ہمدردی کے کارکنوں کی گرفتاری اور عالمی اداروں کی املاک پر قبضے کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ تمام گرفتار شدہ افراد کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
تیسرے نکتے میں یمن کے انسانی بحران پر روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ ملک کی دو تہائی آبادی کو امداد کی ضرورت ہے، غذائی قلت اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، اس لیے عطیہ دہندگان اور اداروں کو امداد بڑھانا ہوگی تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
چوتھے نکتے میں یمن میں پائیدار امن کے لیے سفارتکاری اور جامع مکالمے پر زور دیا گیا۔ دسمبر 2023 کے روڈ میپ کو قابلِ عمل راستہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سیاسی عزم اور شمولیتی امن عمل کے ذریعے ہی جمود کو توڑا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا۔
پاکستان نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو اپنے چارٹر کے تحت کردار ادا کرتے ہوئے امن عمل کی سہولت کاری کرنا ہوگی تاکہ یمن اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو سکے۔











