اسلام آباد، 3 نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفٰی کمال نے فارماکو ویجیلینس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحت کا نظام یقینی طور پر آئیڈیل نہیں ہے اور ہمارا طبی ڈھانچہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہیلتھ کیئر کا نظام تبدیل ہو چکا ہے اور اب توجہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے پر مرکوز ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ دنیا میں بغیر دوا کے لائف اسٹائل میڈیسن سسٹم رائج ہو چکا ہے اور تمام ممالک انسانوں کو مریض بننے سے بچانے کے نظام پر کاربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیلتھ کیئر سسٹم نہ ہونے کے باعث اسپتالوں میں مریضوں کا غیر معمولی بوجھ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہیلتھ کیئر کا آغاز اسپتال کے باہر سے ہوتا ہے۔
مصطفٰی کمال نے کہا کہ ہمارے ہاں سیوریج سسٹم کی ٹریٹمنٹ کا تصور ہی موجود نہیں، جبکہ آلودہ پانی کی وجہ سے 70 فیصد بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر صاف پانی میسر ہو تو اسپتالوں پر 70 فیصد مریضوں کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سے کراچی تک آنے والا پانی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے، اس لیے سیوریج ٹریٹمنٹ کے لیے مقامی سطح پر نظام قائم کرنا لازمی ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ “پرہیز علاج سے بہتر ہے” اور احتیاط و بچاؤ کی تدابیر ہی ہماری قومی حکمتِ عملی ہونی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اپنا طرزِ زندگی بہتر بنانا ہوگا کیونکہ لائف اسٹائل میڈیسن، قدرت کے نظام کے زیادہ قریب ہے۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ دنیا آئندہ 10 سالوں میں کینسر سے نجات حاصل کر لے گی، مگر پاکستان میں ہم اب بھی اس بحث میں الجھے ہوں گے کہ ویکسین حلال ہے یا حرام۔ مصطفٰی کمال نے کہا کہ پاکستان ہیپاٹائٹس، ذیابیطس اور دل کے امراض میں سرِ فہرست ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی ادارہ صحت میں ہیلتھ کیئر مینجمنٹ سسٹم تشکیل دیا جا رہا ہے اور اس نظام کی بہتری کے لیے کردار والے ڈاکٹرز کی ضرورت ہے جو سچے جذبے کے ساتھ انسانی خدمت کے مشن کو آگے بڑھائیں۔











