اسلام آباد، 08 دسمبر (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال سے سوڈان کے فیڈرل سیکرٹری ہیلتھ نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔
اجلاس میں وفاقی سیکرٹری صحت حامد یعقوب اور وزارت کے سینیر افسران بھی شریک تھے
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے سوڈان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعاون میں گہری دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات کے دوران سوڈانی وفد نے وزیر صحت کو اپنے ملک میں جاری صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجرز سے آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ سوڈان نے آئندہ پانچ برسوں پر مشتمل ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی ہے جس میں تقریباً 45 صحت منصوبے شامل ہیں۔
وفد نے صحت کے شعبے کی بحالی و تعمیرِ نو، طبی آلات اور ٹیکنالوجیز کی فراہمی، صحت مراکز میں سولر توانائی کی بحالی اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان سے تعاون کی درخواست کی۔ سوڈانی وفد نے پاکستان کے مسلسل تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور زیادہ مؤثر شراکت داری کا باعث بنے گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان سوڈانی طبی عملے کی تربیت، ماہرین کی خدمات اور علم و تجربے کے تبادلے کے فروغ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تعاون کو کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا، جب کہ فارماسیوٹیکل، میڈیکل ڈیوائسز اور ریگولیٹری معاملات ڈریپ کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ڈبلیو ایچ او کے ریگولیٹری میچورٹی لیول 3 کے حصول کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ٹورزم کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور ویزا سہولت کاری کے معاملات پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ مشاورت کے ذریعے آگے بڑھائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ باہمی تعاون کی یادداشت کے عمل کو تیز کرے گی تاکہ مؤثر اور بروقت پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔
وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہنگامی ردِعمل، بحالی، استعداد کار میں اضافے اور طویل مدتی شراکت داری کے لیے سوڈان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔











