سینیٹ ذیلی کمیٹی نے نیوٹیک سے پانچ سالہ کارکردگی کا جامع ریکارڈ طلب کر لیا

10

اسلام آباد،25 فروری ( اے پی پی (:نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن(نیوٹیک)کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی مالیاتی نظم و نسق، ادارہ جاتی شراکت داریوں اور گزشتہ پانچ برس کی کارکردگی سے متعلق مکمل اور تفصیلی ریکارڈ جمع کرائے۔ یہ ہدایت ملک کے تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیتی نظام کے جائزے کے بعد جاری کی گئی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں  بروز بدھ سینیٹر کامران مرتضیٰ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا ایجنڈا سینیٹر رانا محمود الحسن کے ذریعہ ترتیب دیا گیا تھا، جس میں NAVTTC کے گورننس ڈھانچے، فنڈنگ کے طریقہ کار، شراکت دار اداروں کے انتخاب کے معیار اور روزگار کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔

مختصر بریفنگ میں نیوٹیک نے بتایا کہ یہ کمیشن تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے شعبے میں قومی پالیسی سازی، ضابطہ کاری اور اسٹریٹجک نگرانی کا اعلیٰ ادارہ ہے، جو وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے تحت کام کرتا ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ شراکت دار ادارے عوامی اشتہارات کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں، پروگراموں کی نگرانی آزاد ایویلیوایٹرز کرتے ہیں، اور فنڈز مرحلہ وار تصدیق شدہ اندراجات اور کارکردگی کے اہداف کے مطابق جاری کیے جاتے ہیں۔

کمیٹی نے “اسکلز فار آل” اقدام اور وزیرِ اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ٹریسر اسٹڈی کے نتائج کا جائزہ لیا۔ پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 53 فیصد تربیت یافتہ افراد روزگار میں تھے، جبکہ 47 فیصد بے روزگار رہے۔ روزگار میں موجود افراد میں سے 38 فیصد کی ماہانہ آمدن پچاس ہزار روپے سے زائد اور 18 فیصد کی آمدن 31,000 سے 50,000 روپے کے درمیان تھی۔

اراکین نے زور دیا کہ تربیت کے بعد روزگار کے مواقع مضبوط کیے جائیں اور نتائج کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ ملازمت کے حصول کی شرح میں اضافہ ہو۔

اجلاس کے دوران سینیٹر سرمد علی نے لاہور میں ہواوے کے تعاون سے 2,000 تربیت یافتگان کے منصوبے کے ارتکاز پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ صوبائی مساوی نمائندگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ نیوٹیک نے وضاحت کی کہ تربیتی مقامات کا تعین کمپنی کرتی ہے، تاہم کمیشن ایسے منصوبوں میں کم از کم 60 فیصد روزگار کی شرح حاصل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ مستقبل میں پروگرام کراچی میں ایک نجی ادارے کے ساتھ متوقع ہیں۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ نیوٹیک اور وزارت کے حکام اگلے اجلاس سے قبل جامع دستاویزات جمع کرائیں، جن میں فنڈنگ کی تفصیلی تقسیم، ادائیگی کے طریقہ کار، شراکت دار اداروں کی فہرست، پروگرام اشتہارات اور تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن رپورٹس شامل ہوں۔

سینیٹر رانا محمود الحسن نے تجویز دی کہ آئندہ اجلاس یا فیلڈ وزٹس کراچی، کوئٹہ، اسکردو اور کشمیر میں منعقد کیے جائیں تاکہ زمینی سطح پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔ کنوینر نے تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ذیلی کمیٹی مؤثر نگرانی اور صوبائی مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اختتامی کلمات میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے نیوٹیک کے تمام اقدامات میں قابلِ پیمائش نتائج، مالیاتی ذمہ داری اور شفاف گورننس کے عزم کا اعادہ کیا۔

اجلاس آئندہ نشست میں مطلوبہ ریکارڈ کی فراہمی کی ہدایات کے ساتھ ملتوی کر دیا گیا