اسلام آباد،04 فروری(اے پی پی):سینیئر حریت رہنما الطاف حسین وانی نے کہا ہے کہ یومِ یکجہتیٔ کشمیر اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ کشمیری عوام اپنی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں اور پاکستان کی حکومت اور عوام ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اے پی پی سے پانچ فروری کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان سال کے 365 دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے، تاہم یومِ یکجہتیٔ کشمیر کی علامتی اور اخلاقی اہمیت یہ ہے کہ اس دن دنیا کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
الطاف حسین وانی نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام کی آواز دبانے کے لیے سیاسی قیادت کو قید و نظر بند کر رکھا ہے، جبکہ ماورائے عدالت گرفتاریاں، تشدد، جبری گمشدگیاں اور دیگر انسانی حقوق کی پامالیاں معمول بن چکی ہیں۔ انہوں نے متنازعہ قوانین کے ذریعے زمینوں پر قبضے، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور مذہبی شناخت کو نشانہ بنانے کے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مساجد اور مذہبی شخصیات کو ہراساں کرنا، اوقاف بورڈ پر قبضہ اور نام نہاد ترقی کے نعروں کے تحت سیٹلر کالونیل ازم کو فروغ دینا دراصل کشمیری شناخت کو مٹانے کی کوشش ہے، جسے عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔
سینیئر حریت رہنما نے یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں، تعلیمی اداروں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آواز عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں پہنچائیں، کیونکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادانہ معلومات کے تمام راستے بند کر رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں ثابت قدم ہیں اور کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا، جبکہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے کو اپنی قربانیوں سے مزید مضبوط کرتے رہیں گے۔
الطاف حسین وانی نے پاکستان کی سیاسی قیادت اور مسلح افواج کی جانب سے کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ واضح اور دوٹوک موقف کشمیری عوام کے حوصلے بلند کرنے کا باعث ہے۔











