اقوامِ متحدہ ، 12 مارچ ( اے پی پی): اقوام ِ متحدہ کی کی سلامتی کونسل میں 1737 کمیٹی (ایران) پر بریفنگ کے موقع پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ واضح ہے کہ کونسل اب بھی 1737 کمیٹی کے معاملے پر منقسم ہے۔ بدقسمتی سے یہ تقسیم ذیلی اداروں کے چیئرمینوں کی تقرری پر اتفاقِ رائے میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے، جس کے باعث ان اداروں کے کام پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ 1737 کمیٹی سے متعلق معاملات کو کونسل اور اس کے ذیلی اداروں کے معمول کے کام میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔ ہم اس امر کا بھی نوٹس لیتے ہیں کہ اس معاملے پر رپورٹ کے حوالے سے اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا، جو آج کے اجلاس کی بنیاد بننی چاہیے تھی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ جون کے بعد ہونے والی پیش رفت اور ایران پر بلااشتعال اور بلاجواز حملوں سے شروع ہونے والی موجودہ صورتِ حال نے ایران کے جوہری معاملے کے تناظر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔بدقسمتی سے ایران کے جوہری معاملے پر سفارت کاری کے تعطل نے ایک ایسے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جو گزشتہ چند مہینوں سے مسلسل ابتری کی جانب گامزن تھا۔تاہم جو چیز تبدیل نہیں ہوئی وہ ان بنیادی اصولوں اور کثیرالجہتی جذبے کی مسلسل اہمیت ہے جنہوں نے جوائنٹ کمپریہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) کی تشکیل اور 2015 میں قرارداد 2231 کی متفقہ منظوری کی راہ ہموار کی۔ آج پہلے سے کہیں زیادہ ، حتیٰ کہ موجودہ تنازع اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بھی یہ بات واضح ہے کہ پائیدار حل انہی آزمودہ اصولوں کو اپنانے میں مضمر ہے، نہ کہ انہیں ترک کرکے قلیل النظر پالیسیوں کو اختیار کرنے میں۔
سفیر نے کہا کہ جوائنٹ کمپریہینسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) ایک منفرد معاہدہ تھا
جو مکالمے، سفارت کاری اور عملیت پسندی پر مبنی ایک طرزِ فکر کا مظہر تھا۔ یہ نہایت محنت طلب اور طویل مگر تعمیری مذاکرات کا نتیجہ تھا۔ اس نے باہمی اقدامات کی بنیاد پر فریقین کے خدشات کو جامع طور پر حل کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کیا، اور اس طرح تنازعات کے پرامن حل کے اس اصول کی عکاسی کی جو اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ پاکستان نے اس مسئلے کے مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کی تھی، اور آج بھی یہی ہمارا بنیادی مؤقف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے گزشتہ ستمبر پیش کی گئی اس مسودہ قرارداد کی حمایت کی تھی جس کا مقصد سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں چھ ماہ کی تکنیکی توسیع دینا تھا، تاکہ سفارتی روابط اور مذاکرات کے لیے وقت فراہم کیا جا سکے۔ ہم نے اس صدارتی مسودہ قرارداد کی بھی حمایت کی تھی جس میں قرارداد 2231 کی شرائط کے مطابق پابندیوں کے خاتمے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔
سفیر نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ مکالمہ، سفارت کاری اور تعمیری روابط ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔ اس کے باوجود افسوس کہ سفارت کاری کو ترک کرکے عسکری ذرائع کو ترجیح دی گئی ہے۔
سفیرکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ان پیش رفتوں کے بارے میں اس ایوان اور دیگر فورمز پر اپنا واضح مؤقف بیان کیا ہے۔ ہم نے طاقت کے ہر استعمال، شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے، اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ جوہری تنصیبات پر حملے مقامی آبادی اور پورے خطے کے عوام کے لیے سنگین ماحولیاتی اور حفاظتی خطرات پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہ کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے اہم تصدیقی مینڈیٹ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ آئی اے ای اے وہ ادارہ ہے جو رکن ممالک کی جانب سے جوہری حفاظتی اقدامات سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کی تصدیق معروضی، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد انداز میں تکنیکی بنیادوں پر کرتا ہے۔ آئی اے ای اے کو اس قانونی ذمہ داری کی ادائیگی کے قابل بنایا جانا چاہیے اور ایران میں اس کی تصدیقی سرگرمیوں کو بلا رکاوٹ دوبارہ شروع ہونا چاہیے۔
سفیر نے مزید کہا کہ ہم ایران کے جوہری مسئلے کے پرامن حل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ سفارت کاری اور مکالمہ تمام متنازع امور کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے رہنما اصول ہونے چاہئیں، اور یہ عمل متعلقہ فریقین کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے مطابق ہونا چاہیے۔ صرف معروضی، منصفانہ اور قواعد پر مبنی گفتگو ہی اس مقصد کے حصول کو آگے بڑھا سکتی ہے اور ہم مشرقِ وسطیٰ میں فوری طور پر دشمنیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید کشیدگی سے گریز کریں، مستقل جنگ بندی قائم کریں اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ ہماری تمام کوششیں اسی سمت میں مرکوز ہیں۔











