اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی تیار کردہ سالانہ رپورٹ کو اتفاقِ رائے سے جنرل اسمبلی کے لیے منظور کر لیا

9

اقوام متحدہ، 22 مئی ( اے پی پی): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے تیار اور پیش کردہ سالانہ رپورٹ کو اتفاقِ رائے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے منظور کر لیا۔ رپورٹ میں سلامتی کونسل کی جانب سے مختلف علاقائی بحرانوں اور موضوعاتی امور پر کی گئی کارروائیوں کو اجاگر کیا گیا ہے، جبکہ اسے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی وسیع رکنیت کے درمیان شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 24(3) کے تحت سالانہ رپورٹنگ کا عمل سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے درمیان ادارہ جاتی مکالمے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران اپنے سپرد کیے گئے تعارفی حصے کی تیاری اس مقصد کے تحت کی کہ ایک جامع، تجزیاتی اور بامعنی رپورٹ مرتب کی جائے جو رپورٹنگ مدت کے دوران سلامتی کونسل کے مباحث، چیلنجز اور نتائج کی درست عکاسی کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ 2025 کے دوران سلامتی کونسل کی سرگرمیوں کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے، جس میں مختلف خطوں میں پیچیدہ اور باہم مربوط بحرانوں پر کونسل کی توجہ شامل ہے۔ رپورٹ بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش موجودہ خطرات، جاری اور ابھرتے ہوئے تنازعات، انسانی بحرانوں اور بدلتے ہوئے خدشات کا بھی احاطہ کرتی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ رپورٹ میں شہریوں کے تحفظ، امن مشنز، امن سازی، تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل، اور علاقائی و ذیلی علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون سمیت اہم شعبوں میں سلامتی کونسل کے اقدامات کی عکاسی کی گئی ہے۔

مشکل جغرافیائی و سیاسی ماحول کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ مسلسل تنازعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بعض اوقات سیاسی حل اور اجتماعی اقدامات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں، اس کے باوجود سلامتی کونسل نے استحکام کے فروغ، امن عمل کی حمایت اور پائیدار امن و سلامتی کے حصول کے لیے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے رپورٹ کی تیاری میں ایک کھلا اور جامع طریقہ کار اختیار کیا، جس میں متعلقہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی رہنمائی کے مطابق اقوام متحدہ کے وسیع تر رکن ممالک سے مشاورت بھی شامل تھی۔

انہوں نے بتایا کہ جنرل اسمبلی کے صدر کے تعاون سے 16 جنوری 2026 کو رکن ممالک کے ساتھ ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کیا گیا، اور اس اجلاس میں سامنے آنے والی آراء نے رپورٹ کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعارفی حصے پر مذاکرات فروری کے آغاز میں ہی مکمل ہو گئے تھے، جو سلامتی کونسل کے اراکین، بشمول سبکدوش ہونے والے اراکین، کے تعمیری تعاون اور مثبت شمولیت کی بدولت ممکن ہوا۔

اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سالانہ رپورٹ کو مسلسل بہتری کے ایک متحرک عمل کے طور پر برقرار رہنا چاہیے، اور امید ظاہر کی کہ جنرل اسمبلی میں ہونے والی بحث شفافیت، جوابدہی اور کثیرالجہتی تعاون کے جذبے کے تحت سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔