اسلام آباد ، 20 مئی (اے پی): صدر آصف علی زرداری نے نور خان ایئربیس پر پاکستان کے سرکاری دورے پر پہنچنے پر شہزادہ رحیم آغا خان پنجم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر خاتون اول بی آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھیں۔
یہ شہزادہ رحیم آغا خان کا فروری 2025 میں والد ماجد شہزادہ کریم آغا خان چہارم کے انتقال کے بعد اسماعیلی شیعہ مسلم کمیونٹی کے 50ویں امام کی حیثیت سے قیادت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
ایوان صدر آمد پر پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے دستوں پر مشتمل تینوں مسلح افواج کے دستے نے مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
صدر آصف علی زرداری، خاتون اول بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے شہزادہ رحیم آغا خان سے ملاقات کی، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
صدر نے ان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سی او اے ایس اینڈ سی ڈی ایف، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزرا، اراکین پارلیمان اور سفارتی برادری کے اراکین شریک تھے۔
صدر نے صحت، تعلیم، کمیونٹی ڈویلپمنٹ، موسمیاتی لچک اور ورثے کے تحفظ کے شعبوں میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی پاکستان کے لیے دیرینہ خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے اے کے ڈی این کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدر نے مرحوم شہزادہ کریم آغا خان چہارم کی پاکستان سے دیرینہ وابستگی کو یاد کرتے ہوئے آغا خان خاندان کی تاریخی خدمات کو سراہا۔
شہزادہ رحیم آغا خان نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان میں ترقیاتی و فلاحی اقدامات میں اے کے ڈی این کے مسلسل تعاون کا یقین دلایا۔
شہزادہ رحیم کا آخری دورہ پاکستان 2024 میں تھا، جب صدر نے آغا خان خاندان کی طویل خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان پاکستان عطا کیا تھا۔
وفد میں سلطان علی علانا، ڈائریکٹر آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈویلپمنٹ و ہیڈ آف فنانشل سروسز اے کے ڈی این، شفیق سچدینہ، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آف جماعتی انسٹیوشنز، نزار نور محمد میاوالا، صدر اسماعیلی کونسل برائے پاکستان اور اکبر لادک، نائب صدر اسماعیلی کونسل برائے پاکستان شامل تھے۔
ملاقات میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری، خاتون اول بی آصفہ بھٹو زرداری، سینیٹر شیری رحمٰن، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، ایم این اے نوید قمر، ڈاکٹر عاصم حسین اور سیکرٹری خارجہ بھی شریک تھے۔











