چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا چین  کی اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات، پاک چین تعاون اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال

4

اسلام آباد20 مئی( اے پی پی ):چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے چینی نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین  کی قیادت میں آئے ہوئے اعلیٰ سطحی چینی وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران پاک چین دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں مستقبل کے اشتراکِ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان لازوال دوستی خطے میں امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی مضبوط بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونا اس تاریخی، آزمودہ اور عوامی سطح پر مضبوط رشتے کا مظہر ہے جو وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوا ہے۔

انہوں نے پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان اور چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے درمیان روابط اور ادارہ جاتی تعاون دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں کے مابین مسلسل روابط سے باہمی اعتماد اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام، خیرسگالی اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی غیر متزلزل حمایت پر استوار ہیں۔

 انہوں نے اپنے مختلف سرکاری عہدوں کے دوران چین کے متعدد دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چینی صدر، وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں کا موقع ملا، جبکہ چین کے مختلف علاقوں کے دوروں کے دوران کئی اہم معاہدے بھی طے پائے جنہوں نے دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دی۔

انہوں نے کہا کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو، ماؤ زے تنگ اور چو این لائی جیسے مدبر رہنماؤں نے پاک چین دوستی کی مضبوط بنیاد رکھی، جو آج بھی ہر آنے والی نسل کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار اور مخلص دوست ہے، جبکہ پاکستان علاقائی اور عالمی فورمز پر چین کی مسلسل حمایت کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت، معیشت، ثقافت، انفراسٹرکچر اور روابط کے شعبوں میں پاک چین تعاون نے خطے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان زراعت، توانائی، معدنیات، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، گرین ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک، ایگری ٹیک اور ڈیجیٹل سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سی پیک پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان اسے جدت، پائیدار ترقی اور معاشی خوشحالی کے مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے خصوصی اقتصادی زونز اور ماحول دوست منصوبوں میں مزید چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم بھی کیا۔

انہوں نے عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں اور پارلیمانی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے طویل سیاسی تجربے کے مطابق دونوں ممالک کے عوام اور پارلیمانوں کے درمیان مضبوط روابط پاک چین دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں معاون ثابت ہوں گے۔علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔

 انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تنازعات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادمیر پوٹن کا حالیہ دورہ چین انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاک چین دفاعی تعاون باہمی اعتماد کی علامت ہے اور یہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

                اس موقع پر چینی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین سائی ڈافینگ نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور سینیٹ اراکین کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور سفارتی، پارلیمانی، اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے پاکستان کی ایوانِ بالا کی جانب سے پاک چین دوستی کے حق میں متفقہ حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی فورمز عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں مکالمے اور تعاون کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔قبل ازیں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چینی وفد کا پرتباک خیرمقدم کیا اور پاک چین دوستی کو باہمی اعتماد، احترام اور غیر متزلزل تعاون پر مبنی لازوال رشتہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات اس آہنی دوستی کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے سابق چینی وزیر اعظم وین جی باوکے 18 دسمبر 2010ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے کیے گئے تاریخی خطاب کو یاد کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے پارلیمانی اور سفارتی تعلقات بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔

ملاقات میں سینیٹرز شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا، رانا ثنا اللہ، منظور احمد کاکڑ، چیئرمین سینیٹ کی مشیر اور سفیر برائے بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس مصباح کھر، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ، رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم،پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ اور وفد کے دیگر اراکین شامل تھے۔