اسلام آباد،26 مئی ( اے پی پی ): چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید (ریٹائرڈ) نے تربیلا ڈیم کا دورہ کیا اور پانچویں توسیعی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا جبکہ چوتھے توسیعی منصوبے کی لو لیول آؤٹ لٹ کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کا مشاہدہ کیا۔
چیئرمین واپڈا کو پراجیکٹ حکام کی ریفنگ میں بتایا کہ تربیلا ڈیم گزشتہ 50 سال کے دوران 419 ملین ایکڑ فٹ پانی زرعی مقاصد کے لیے فراہم کر چکا ہے جبکہ نیشنل گرڈ کو 586 ارب یونٹس سستی بجلی بھی دی گئی ہے۔تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے سے بھی نیشنل گرڈ کو 33 ارب یونٹ بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔
دورے کے دوران چیئرمین واپڈا کو منصوبے کی مختلف سائٹس بشمول ان ٹیک اسٹرکچر، کنیکٹنگ ٹنل، پاور ہاؤس، ٹیل ریس اور سوئچ یارڈ پر جاری کام سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ تمام اہم اہداف کے حصول کے لیے تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔چیئرمین واپڈا نے منصوبے کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تعمیراتی اہداف مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں تاکہ منصوبے میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ تربیلا پانچویں توسیعی منصوبہ 1530 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے ورلڈ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مالی معاونت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد تربیلا کی مجموعی پیداواری صلاحیت 4 ہزار 888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6 ہزار 418 میگاواٹ ہو جائے گی۔
مزید بتایا گیا کہ ورلڈ بینک اس منصوبے کے لیے 390 ملین ڈالر جبکہ اے آئی آئی بی 300 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔دورے کے دوران چوتھے توسیعی منصوبے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ یہ منصوبہ مارچ 2018 میں فعال ہوا اور اب تک قومی گرڈ کو 33 ارب 25 کروڑ یونٹ بجلی فراہم کر چکا ہے۔
چیئرمین واپڈا کو بتایا گیا کہ تربیلا ڈیم اپنے 50 سالہ آپریشنل دورانیے میں 419 ملین ایکڑ فٹ پانی زرعی مقاصد کے لیے فراہم کر چکا ہے جبکہ قومی گرڈ کو 586 ارب یونٹ سستی اور ماحول دوست بجلی بھی دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق تربیلا ڈیم سے اب تک ملکی معیشت کو مجموعی طور پر 460 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچا ہے۔
چیئرمین واپڈا کے تربیلا ڈیم کے دورے کے موقع پر جنرل منیجر تربیلا ڈیم، جنرل منیجر پاور تربیلا، جنرل منیجر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ، ایڈوائزر پراجیکٹس واپڈا ، چوتھے اور پانچویں توسیعی منصوبے کے ایڈوائزر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر تربیلا چوتھاتوسیعی منصوبہ بھی موجود تھے۔











