اسلام آباد، 24 جون (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیر کو قومی مفاد کا معاملہ سمجھتی ہے اور اس حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن کی آراء اور کاوشوں کا احترام کرتی ہے۔
بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے کشمیر کے معاملے پر اہم نکات اٹھائے ہیں اور حکومت اس حوالے سے ان کے کردار اور رہنمائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہر اس کوشش کا خیرمقدم کرے گی جو مسئلہ کشمیر اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران حکومت نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور وزیراعظم کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔
کمیٹی نے مظفرآباد میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے اور عوامی فلاح سے متعلق ان کے مطالبات کا جائزہ لیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی سے متعلق متعدد مطالبات تسلیم کیے، جبکہ منگلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کی فراہمی سے متعلق کئی دہائیوں پرانے وعدے کو بھی عملی جامہ پہنایا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو منگلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی تقریباً ساڑھے تین روپے فی یونٹ کے نرخ پر فراہم کی جا رہی ہے، جو حکومت کے عوام دوست اقدامات کا مظہر ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پر پیش رفت کی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی۔
انہوں نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر آزاد کشمیر کے عوام کو منگلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا گیا، جبکہ گندم پر سبسڈی سمیت عوامی فلاح کے متعدد مطالبات پر بھی عملدرآمد کیا گیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ ترقیاتی مطالبات پر متعلقہ اداروں نے کام کیا، جبکہ مہاجرین کے لیے مختص نشستوں کے معاملے پر ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔
جس میں ایکشن کمیٹی، حکومت آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت کے نمائندے شامل تھے تاکہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق قابل عمل سفارشات مرتب کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ایکشن کمیٹی نے اکتوبر 2025 سے کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت ترک کر دی اور جنوری 2026 میں لانگ مارچ کا اعلان کیا، حالانکہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی خواہاں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ مرحلے میں بھی وفاقی کمیٹی نے مظفرآباد میں ایکشن کمیٹی کے ارکان سے دو روز تک تفصیلی مذاکرات کیے اور حکومت نے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کی پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا۔
ر رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں احتجاجی معاملات کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور آئینی ذرائع اختیار کیے، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے متعدد تجاویز قبول نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے ایکشن کمیٹی کے بیشتر ترقیاتی مطالبات پر پیش رفت سے آگاہ کیا، جسے کمیٹی کے نمائندوں نے بھی تسلیم کیا۔ بعد ازاں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر حکومت نے آئینی اور قانونی مؤقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاملہ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے اور اس کا حل بھی آئینی طریقہ کار کے مطابق ہی ممکن ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں، جن میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بحث، تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس، صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر سے رائے لینے اور لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کی تجاویز شامل تھیں، تاہم ایکشن کمیٹی نے ان تجاویز سے اتفاق نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس کے باوجود مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا اور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئندہ بھی قومی اور آئینی معاملات کا حل صرف مذاکرات، سیاسی مشاورت اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھتی ہے۔











