حکومت نے مؤثر معاشی حکمتِ عملی اختیار نہیں کی، گوہر علی خان

2

اسلام آباد، 17،جون(اے پی پی ):قومی اسمبلی میں بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپوزیشن رکن گوہر علی خان نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق وفاق پر عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ پیسہ قوم کی امانت ہے جس کے استعمال میں مکمل شفافیت اور دانشمندی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں ترامیم اور قانون سازی کے واضح طریقہ کار موجود ہیں، جبکہ بجٹ کی منظوری بھی ایک آئینی ذمہ داری ہے جس میں تمام ارکانِ پارلیمنٹ کی اجتماعی دانش شامل ہونی چاہیے۔

گوہر علی خان نے کہا کہ موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا اور یہ غریب آدمی کو ریلیف دینے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق اس بجٹ میں مہنگائی، آٹے، گیس سلنڈر، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو معاشی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے تاکہ عام شہری کی زندگی میں حقیقی بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ بجٹ کو عوام دوست بنانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

اپوزیشن رکن نے عالمی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک نے جنگی یا معاشی بحرانوں کے بعد اپنی پالیسیوں میں اصلاحات کیں اور ضروری ذخائر کو بہتر بنایا، جبکہ پاکستان کو بھی توانائی اور پٹرولیم ذخائر کے حوالے سے مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نوجوان آبادی کے لیے روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے نجکاری کے دعووں کے باوجود عملی طور پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کم سرمایہ کاری پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم ان شعبوں پر خرچ کر رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔

اپوزیشن رکن نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر خطیر رقم مختص ہونے کے باوجود غربت میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق ملک میں غربت کی شرح اب بھی بلند سطح پر برقرار ہے۔