قانون کی حکمرانی کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں میں اراکین کی فعال شرکت ضروری ہے؛ اعظم نذیر تارڑ

9

اسلام آباد، 22جون(اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف  اعظم نذیر تارڑ  نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں میں ارکان کی فعال شرکت ناگزیر ہے جبکہ عدالتی کارروائی اور فیصلوں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

قومی اسمبلی میں نکتۂ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون و انصاف  اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لیے امیدواروں کے انٹرویوز کی غرض سے ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ جس کی کارروائی چیف جسٹس کی سربراہی میں ہوتی ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن ارکان سے متعدد بار استدعا کی کہ وہ قانون و انصاف سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کریں، تاہم بعض ارکان ان اجلاسوں میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے فوجداری قوانین میں جامع اصلاحات کے لیے تقریباً 100 ترامیم پر مشتمل ایک بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے، جو اس وقت متعلقہ قائمہ کمیٹی کے زیر غور ہے۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کرکے قانون سازی کے عمل میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مجوزہ ترامیم کے حوالے سے سندھ اور خیبر  پختونخوا کی رائے طلب کی گئی ہے، تاہم اب تک دونوں صوبوں کی آراء موصول نہیں ہوئیں۔  انہوں نے کہا کہ صرف قانون کی حکمرانی پر تقاریر کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کرنا اور کمیٹیوں میں فعال شرکت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

عدالتی معاملات کے حوالے سے وزیر قانون نے واضح کیا کہ حکومت عدالتی کارروائی یا فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتی، سزائیں عدالتیں سناتی ہیں اور اگر کسی کو کسی فیصلے پر اعتراض ہو تو اس کے لیے اپیل کا قانونی طریقہ کار موجود ہے۔