قومی اسمبلی: فنانس بل 2026 کی شق وار منظوری کا عمل جاری، متعدد ترامیم مسترد

4

اسلام آباد، 23  جون (اے پی پی ): قومی اسمبلی میں فنانس بل 2026 کی شق وار منظوری کا عمل اسپیکر  سردار ایاز صادق کی زیر صدارت جاری رہا، جس میں مختلف ارکان کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم پر ووٹنگ کی گئی۔

ایوان نے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پر غور کے بعد فنانس بل کو فوری طور پر زیر غور لانے کی تحریک منظور کر لی، جس کے بعد شق 2 پر ترامیم پر بحث اور رائے شماری کی گئی۔شق 2 کے تحت تین ترامیم پیش کی گئیں جن میں ارکان قومی اسمبلی نعیمہ کشور ، شاہدہ اختر علی، اور ریاض فتیانہ  شامل تھے۔

رکن اسمبلی شاہدہ  بیگم نے ترمیم پیش کی کہ شیڈول کے جدول میں سیریل نمبر ایک کے تحت موجود رقم 20 ہزار روپے کو کم کرکے 10 ہزار روپے کر دیا جائے، تاہم متعلقہ وزیر نے اس کی مخالفت کی۔بعد ازاں اسپیکر نے ترامیم کو رائے شماری کے لیے ایوان میں پیش کیا، جہاں ارکان کی اکثریت نے ان کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں ترامیم مسترد کر دی گئیں اور شق 2 بل کا حصہ برقرار رہی۔

اسپیکر نے بعد ازاں شق 3 کی جانب کارروائی بڑھائی، جہاں متعدد ترامیم پیش کی گئیں تاہم اکثر ارکان کی عدم موجودگی کے باعث کارروائی محدود رہی اور فنانس بل 2026 پر شق وار منظوری کا عمل جاری رہا۔

فنانس بل 2026 کی شق وار منظوری کے دوران موبائل فون صارفین پر عائد ٹیکسوں، ریگولیٹری ڈیوٹیز اور ٹیکس پالیسی میں اصلاحات سے متعلق ترامیم پر بحث کی گئی۔ایوان میں شق 4 کے تحت متعدد ترامیم پیش کی گئیں، جن میں ذیلی شق 1A اور دیگر تکنیکی ترامیم شامل تھیں، تاہم بعض ترامیم کو بحث کے بعد واپس لے لیا گیا۔ ممبر قومی اسمبلی سید قاسم گیلانی نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں موبائل فونز کو بعض اوقات لگژری آئٹم کے طور پر ٹریٹ کیا جاتا ہے جبکہ موجودہ دور میں یہ بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام پر اضافی مالی بوجھ کم کیا جائے۔

انہوں نے ایوان کو  بتایا کہ فنانس کمیٹی میں ایف بی آر کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں تقریباً 20 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ نیٹ ورک اسلیب اور دیگر ٹیکس سلیب میں بھی صارفین کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کروڑوں موبائل صارفین کے لیے ایک انسٹالمنٹ پلان بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت پی ٹی اے سے متعلق ٹیکسز کو ماہانہ اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔

بعد ازاں متعلقہ رکن نے اپنی ترامیم واپس لے لیں، جس کے بعد فنانس بل 2026 کی شق وار منظوری کا عمل جاری رہا۔ فنانس بل 2026 کی شق وار منظوری کے دوران کلاز 5 کے تحت مختلف تکنیکی ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں ٹیرف، شیڈول اور پی سی سی کوڈز سے متعلق ترامیم شامل تھیں۔

 ایوان میں بحث کے دوران رکن قومی اسمبلی احمد عتیق انور سمیت دیگر ارکان نے ترامیم پیش کیں، جن میں مالیاتی شیڈول میں مختلف اشیاء اور ٹیرف لائنز کی ایڈجسٹمنٹ شامل تھیں۔ترامیم کے تحت بعض ٹیرف نمبرز اور اعداد و شمار میں تبدیلی کی تجاویز دی گئیں، جبکہ جوائنٹ شیڈول میں نئے پی سی سی کوڈز اور اشیاء کی درجہ بندی سے متعلق شقیں بھی زیر غور آئیں، جن میں گلیسرول اور دیگر صنعتی اجزاء سے متعلق اندراجات شامل تھے۔

ایوان میں بعض ارکان نے کہا کہ ان ترامیم کا مقصد فنانس بل میں تکنیکی بہتری اور ٹیرف نظام کی درستگی کو یقینی بنانا ہے۔قومی اسمبلی میں فنانس بل 2026 کی منظوری کا عمل مختلف کلازز کے تحت جاری ہے، جس میں ارکان کی ترامیم، بحث اور ووٹنگ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس 24 جون بروز بدھ دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔