اسلام آباد، 12جون(اے پی پی):وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کے لئے ان کی باہمی مشاورت سے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ایک تاریخی “فکسڈ ٹیکس سسٹم” متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس نظام کے تحت وہ دکاندار آسکیں گے جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ وہ اپنی سالانہ سیلز کا محض ایک فیصد ٹیکس ادا کر کے اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سکیم کے تحت دکانداروں کو روٹین آڈٹ، پی او ایس مشین رکھنے اور خریداری پر ودہولڈنگ کی ذمہ داریوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ فکسڈ ٹیکس دینے والے دکانداروں کو کیو آر کوڈ پر مبنی سبز تختی دی جائے گی جس کی موجودگی میں ایف بی آر اہلکار دکان میں پوچھ گچھ کے لئے داخل نہیں ہو سکیں گے۔











