فیصل آباد 03، جولائی ( اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر رہی ہے تاکہ ٹیکس چوری اور مالیاتی لیکیج کا خاتمہ کیا جا سکے، جبکہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیے بغیر محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا جائے۔
فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اجلاس صرف بجٹ کے بعد کی مشاورت نہیں بلکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کا آغاز ہے، جس کا آغاز فیصل آباد سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ بجٹ کی تیاری فنانس ڈویژن کرے گا جبکہ ایف بی آر صرف ٹیکس انتظامیہ اور وصولیوں سے متعلق امور پر توجہ دے گا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11.5 فیصد پر آ چکی ہے اور اگر ایران سے متعلق علاقائی صورتحال بہتر ہوئی تو آئندہ سال مزید کمی کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبے کے لیے بجٹ میں مختص رقم اضافی سہولت کے طور پر رکھی گئی ہے، جبکہ آئندہ بجٹ میں ایکسپورٹرز کو مزید مراعات دی جائیں گی۔ بجلی کے نرخوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کراس سبسڈیز ختم کرنے سے ٹیرف میں مزید کمی آئے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ دو سالہ مشاورت کے بعد ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی سیکٹر کی 4.5 ارب ڈالر کی برآمدات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اس شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت تعمیراتی شعبے کی حوصلہ افزائی کرے گی، تاہم فائلوں کی خرید و فروخت پر مبنی کاروبار کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نادرا اور ایف بی آر کے ڈیٹا کو باہم منسلک کیا جا رہا ہے، جس سے ٹیکس نظام میں شفافیت آئے گی اور مالیاتی لیکیج ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ شوگر سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن کے نتیجے میں 60 ارب روپے کا اضافی سیلز ٹیکس حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے لیے درمیانی مدت کی ٹیکس حکمت عملی متعارف کرائی جائے گی، جبکہ زرعی مشینری پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈوانس ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا مسئلہ حل ہونے سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا، جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی ٹیرف میں مزید رعایت حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تاہم اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے نفاذ کا متعلقہ فریقین کی مشاورت سے جائزہ لیا جائے گا۔
اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بجٹ میں کاروباری برادری کی متعدد سفارشات شامل کی گئی ہیں جبکہ باقی تجاویز پر بھی مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کا مشترکہ مقصد معیشت کی بحالی ہے، اس لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار بجٹ سازی کے عمل میں چیمبرز کو مؤثر انداز میں شامل کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور متعدد صنعتی و برآمدی مسائل مختصر مدت میں حل ہوئے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے کم از کم دس سالہ پالیسی مرتب کی جائے تاکہ پاکستان 60 ارب ڈالر کے ہدف سے آگے بڑھ کر 100 ارب ڈالر کی برآمدات حاصل کر سکے۔
فاروق یوسف شیخ نے حکومت کی جانب سے نمایاں برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر کو 24 سے 26 جولائی کو لاہور ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی فیصل آباد ایکسپو میں شرکت کی دعوت بھی دی اور فیصل آباد میں ایکسپو سینٹر کے قیام کے لیے تعاون کی درخواست کی۔
تقریب کے اختتام پر فیصل آباد چیمبر کے صدر نے وفاقی وزیر کو اعزازی شیلڈ پیش کی، جبکہ محمد اورنگزیب نے فیصل آباد ایکسپو کی سافٹ لانچنگ کا افتتاح کیا اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔











