قومی لاجسٹکس بورڈ کا اجلاس، این ایل سی کی کارکردگی پر بریفنگ

4

اسلام آباد،28جولائی(اے پی پی)؛ قومی لاجسٹکس بورڈ (نیشنل لاجسٹکس بورڈ) کا 68واں اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور چیئرمین قومی لاجسٹکس بورڈ احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران کوارٹر ماسٹر جنرل پاکستان آرمی/ آفیسر اِنچارج این ایل سی اور ڈائریکٹر جنرل این ایل سی نے ادارے کی انتظامی، آپریشنل اور مالیاتی کارکردگی پر بورڈ کو تفصیلی بریفنگ دی۔بورڈ کو آگاہ کیا گیا کہ این ایل سی نے علاقائی رابطہ کاری کے فروغ، پاکستانی مصنوعات کے لیے برآمدی مواقع میں تنوع پیدا کرنے اوربین الاقوامی تجارتی راہداریوں کے قیام کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

 اس سلسلے میں ترکمانستان کے شہر سرحت آباد، ازبکستان کے شہر ترمذ اور چین کے شہر کاشغر میں فارورڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مراکز کے قیام سے خطے میں تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔شرکاء کو این ایل سی کی جانب سے لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی بہتری، زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے فروغ کے لیے شروع کیے گئے نئے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

قومی لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کے 68ویں بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور چیئرمین بورڈ،  احسن اقبال نے این ایل سی کو ہدایت کی کہ وہ سست ڈرائی پورٹ اور خنجراب بارڈر ٹرمینل کو پاکستان کی برآمدات کے فروغ اور علاقائی تجارتی روابط کے استحکام کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر مزید وسعت دینے پر خصوصی توجہ دے۔

انہوں نے بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید ڈرائیونگ اکیڈمی کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ایسے ہنر مند ڈرائیور تیار کیے جا سکیں جو عالمی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تربیت حاصل کرنے والوں کو غیر ملکی زبانوں کی تعلیم بھی دی جائے تاکہ وہ خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت سرحد پار تجارت اور لاجسٹکس کے شعبے میں بین الاقوامی شراکت داروں سے مؤثر انداز میں رابطہ اور ہم آہنگی قائم کر سکیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ لاجسٹکس اب محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک سامان کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ یہ مسابقتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، مضبوط اور پائیدار سپلائی چینز کی بنیاد، قومی سلامتی اور پائیدار ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک ستون بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے اپنی معیشتوں کو کامیابی سے ترقی دی، انہوں نے مؤثر نقل و حمل، کثیر جہتی رابطہ کاری، ڈیجیٹل لاجسٹکس اور آسان تجارتی سہولتوں کے ذریعے کاروبار کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی لائی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے لاجسٹکس کے نظام میں بہتری کسی ایک شعبے کی اصلاح نہیں بلکہ ایک قومی معاشی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ  اڑان پاکستان  کے اہداف، خصوصاً برآمدات پر مبنی معاشی نمو، صنعتی مسابقت اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے ایک مؤثر، مربوط اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ لاجسٹکس نظام ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج کا اجلاس ہمیں اپنی پیش رفت کا جائزہ لینے، درپیش رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے اور اجتماعی کاوشوں کو اس مقصد کے لیے ہم آہنگ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ایسا لاجسٹکس نظام تشکیل دیا جائے جو برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، علاقائی تجارت کے استحکام اور پاکستان کو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک مؤثر علاقائی رابطہ مرکز کے طور پر مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے۔

وفاقی وزیر  احسن اقبال نے این ایل سی کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے پاکستان کے نقل و حرکت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں ادارے کے قائدانہ کردار کو قابلِ تحسین قرار دیا۔