مون سون سیزن کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر و ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے نظام پر جائزہ اجلاس ، وزیراعظم کی مون سون کی پیشگی تیاری اور ہنگامی رسپانس کمیٹی بنانے کی ہدایت

1

اسلام آباد ، 01 جولائی ( اے پی  پی ): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر و ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے نظام پر جائزہ اجلاس ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ موسمی تغیرات کے قومی سطح کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون ناگزیر ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اس ہفتے تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کریں گے تاکہ مون سون کی پیشگی تیاری مکمل کی جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی زیر نگرانی نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اور دیگر متعلقہ وفاقی وزارتوں پر مشتمل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو صوبائی اداروں سے عملی تعاون کے لیے کام کرے گی۔ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی ہفتہ وار ملاقاتیں کرے گی۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ مون سون کی ممکنہ تباہی کی صورت میں ہنگامی فنڈ کی تشکیل کے لیے پیشگی تیاری مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اداروں کی مالی معاونت کے تحت منصوبے بھی قومی و مقامی اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے استعمال ہونے چاہیے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ قومی آبی تحفظ و سلامتی کے لیے وفاقی حکومت نے اس سال کے مالی بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے 330 ارب روپے کی اضافی رقم مختص کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس سال مون سون میں ممکنہ سیلابی صورتحال اور خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات جامع روڈ میپ کے تحت ترتیب دیے جائیں۔

وزیراعظم نے تمام صوبوں کو ہدایت کی کہ وہ مقامی سطح پر خطرے سے دو چار اضلاع میں دریاؤں کی گزرگاہوں اور سیلاب کے ممکنہ راستوں میں ناجائز تجاوزات اور دیگر مسائل کا پیشگی مؤثر حل یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مون سون کے دوران تمام ادارے اپنی مکمل ادارہ جاتی و تکنیکی استعداد عوام کی سہولت کے لیے استعمال کریں۔

اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اس سال گرمی کی شدید لہر اور غیر معمولی موسمیاتی تغیرات کے امکانات واضح ہیں۔ پاکستان میں بھی گرمی کی شدید لہر اور جولائی میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں جن کے لیے مجوزہ حکمت عملی کے تحت تمام انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس احمد لغاری، مصدق ملک، شزا فاطمہ، اعظم نذیر تارڑ، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین واپڈا، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔