اسلام آباد، 2جولائی ( اے پی پی ): وزارت برائے انفارمیشن و ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ماتحت ادارے اگنائٹ نے فاسٹ نیشنل یونیورسٹی کے اشتراک سے اپنے انٹیگریٹڈ سرکٹ ڈیزائن اینڈ ویریفیکیشن ٹریننگ اور پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ پروگرام کی گریجویشن تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب پاکستان میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ٹیلنٹ پیدا کرنے کے 10 ماہ کے کامیاب اقدام کی تکمیل کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی۔
فاسٹ یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کی آئی سی ڈی لیب کے زیرِ اہتمام چلائے جانے والے اس مکمل طور پر فنڈڈ پروگرام کے تحت ایڈوانسڈ آئی سی ڈیزائن، وی ایل ایس آئی ویریفیکیشن، سسٹم آن چپ آرکیٹیکچرز، اور انڈسٹری کے معیاری سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ٹولز میں عملی تربیت فراہم کی گئی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام، شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ‘ڈیجیٹل نیشن پاکستان’ وژن کے تحت، پاکستانی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجیز میں اعلیٰ قدر والے کیریئرز کے لیے تیار کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ مجھے اس پروگرام سے دس خواتین انجینئرز کو گریجویٹ ہوتے دیکھ کر فخر محسوس ہو رہا ہے اور امید ہے کہ خواتین پاکستان کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایجنڈے میں اپنا حصہ ڈالتی رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین پر شعبے میں بھرپور نمائندگی کر رہی ہیں اور ملکی معشیت میں خواتین کا بہت بڑا عمل دخل ہے،
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان نے اپنی پہچان بنائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس چیز کو ہم مزید وسعت دیں گے اور اب اس کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
بیس (20) مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے اس گریجویٹنگ گروپ میں مجموعی طور پر 30 انجینئرز شامل تھے، جن میں 10 خواتین بھی تھیں، اور اس پروگرام نے ٹرینیز کی تکمیل کی سو فیصد شرح حاصل کی۔ درخواستوں کو ملک گیر میرٹ کی بنیاد پر حتمی شکل دی گئی تھی۔ 70 فیصد سے زیادہ گریجویٹس پہلے ہی ملازمت کی پیشکشیں حاصل کر چکے ہیں۔
اگنائٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد بلال عباسی نے کہا کہ یہ پروگرام ثابت کرتا ہے کہ اگر پاکستانی انجینئرز کو عالمی معیار کی تربیت اور انڈسٹری کا تجربہ فراہم کیا جائے تو وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملازمت کے بہترین نتائج پاکستان کے ٹیکنالوجی ٹیلنٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس پروگرام کو ملک بھر میں زبردست پزیرائی ملی، اور اسلام آباد ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں میں کی جانے والی وسیع آؤٹ ریچ مہم کے ذریعے 1000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔ مزید برآں، فاسٹ یونیورسٹی نے طلبہ پر بغیر کسی اضافی بوجھ کے، یونیورسٹی کے تعلیمی فنڈز سے اضافی 10 فیصد شرکاء کو سپانسر کر کے پروگرام کے ساتھ اپنے گہرے عزم کا اظہار کیا۔
فاسٹ یونیورسٹی کے ریکٹر، ڈاکٹر آفتاب احمد معروف نے کہا کہ آئی سی ڈی لیب 2019 سے اب تک آئی سی ڈیزائن انجینئرز کے سات بیچز کو گریجویٹ کروا چکی ہے اور اس نے بین الاقوامی سطح پر شناخت حاصل کی ہے، جس میں ایک آئی ای ای ای مقابلے میں سرفہرست دس پوزیشنز میں سے چھ پوزیشنز حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ لیب اب پاکستان، سعودی عرب اور عمان کے انجینئرز کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔
اگنائٹ نے پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے پر فاسٹ یونیورسٹی، اس کی فیکلٹی، انڈسٹری کے ماہرین اور رہنماؤں کی کاوشوں کو سراہا، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائبر سیکیورٹی اور سیمی کنڈکٹر ڈیزائن جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کی ٹیکنالوجی ورک فورس کی تعمیر کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
جیسے جیسے پاکستان اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کر رہا ہے، آئی سی ڈیزائن اور ویری فکیشن پروگرام جیسے اقدامات عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹر ٹیلنٹ پائپ لائن کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ نوجوان انجینئرز کو جدید ترین مہارتوں سے آراستہ کر کے اور انہیں اعلیٰ مالیت کے روزگار کے مواقع سے جوڑ کر، اگنائٹ اور وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام پاکستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم میں ایک ابھرتے ہوئے شراکت دار اور جدید ٹیکنالوجی کی اختراع کے مرکز کے طور پر پیش کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔











