پاور سیکٹر میں اصلاحات اولین ترجیح، بجلی چوری کے خاتمے اور اسمارٹ میٹرز کی تنصیب ناگزیر ہے: وزیراعظم

4

اسلام آباد، 30 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاور ڈویژن کے امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں پاور سیکٹر اصلاحات اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے پاور سیکٹر اصلاحات اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی بہتر کارکردگی پر وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکریٹری پاور ڈویژن فخر عالم اور پاور سیکٹر ٹاسک فورس کی کاوشوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر کی بہتری کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے اور ملک بھر میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب ناگزیر ہے۔ انہوں نے بجلی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے پاور سیکٹر میں ہر سطح پر سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بلنگ سسٹم کا تکنیکی آڈٹ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے کلیدی کارکردگی اشاریے مرتب کیے جائیں اور مقررہ مدت کے ساتھ اہداف متعین کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ڈسکو کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔وزیراعظم نے دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے گاؤں کی سطح پر شمسی توانائی کے منصوبے تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کمپنیوں کے تکنیکی اور تجارتی نقصانات بتدریج کم ہو رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کی مد میں سب سے کم نقصان اسلام آباد، لاہور اور گوجرانوالا کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو ہوا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے سو فیصد ریکوری حاصل کی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بجلی چوری کی روک تھام، ریکوری میں بہتری اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان اور ہزارہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں ڈسکو سپورٹ یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ٹرانسفارمر کی سطح پر اثاثہ کارکردگی انتظامی نظام کی تنصیب کا پہلا مرحلہ 30 ستمبر 2026 تک مکمل ہو جائے گا جبکہ اس نظام سے منسلک ٹرانسفارمرز کی تنصیب سے بجلی چوری اور لوڈشیڈنگ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملتان، لاہور، پشاور، ہزارہ اور کوئٹہ کے علاقوں میں ایک کروڑ باسٹھ لاکھ سنگل فیز جدید میٹروں کی تنصیب کا منصوبہ زیر غور ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، انسپکٹر جنرلز پولیس اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔