شکاگو، 07 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کے دورے کے دوران طبی تعلیم، تحقیق اور صحت کے شعبے میں تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔
احسن اقبال نے یونیورسٹی کی قیادت سے ملاقات میں جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلوں، وظائف، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور جدید جراحی کی تربیت کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت جناح میڈیکل کمپلیکس کو خطے کا ممتاز طبی مرکز بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جدید طبی سہولیات اور عالمی معیار کے طبی و تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے لیے پرعزم ہے جبکہ جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کو خطے کے نمایاں طبی مراکز میں شامل کرنا حکومت کا ہدف ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان امریکہ علمی راہداری کے دائرہ کار میں طبی علوم کو شامل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان روبوٹک جراحی اور جدید طبی تحقیق میں یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ روبوٹک جراحی سمیت جدید طبی سہولیات کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان ابھرتے طبی اداروں کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کامیاب بین الاقوامی ماڈلز سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ فلبرائٹ پروگرام پاکستان اور امریکہ کے تعلیمی تعاون کی ایک اہم مثال ہے جسے وسعت دی گئی اور آج یہ دنیا کے بڑے تعلیمی پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلبرائٹ پروگرام کی توسیع انسانی وسائل کی ترقی اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاس ہے۔
ملاقات کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کی قیادت نے پاکستانی اداروں کے ساتھ طبی تعلیم،تحقیق اور صحت کے شعبے میں مستقبل کے تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔











