اسلام آباد ،15 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرصدارت قومی تعمیراتی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ کا قیام اور الگ بینک بنانے کی تجویز زیرِغور آئی۔ تعمیراتی شعبے کے لیے درآمدی و برآمدی پالیسیوں کی معقول سازی اور ٹیکس اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا۔
احد چیمہ نے کہا کہ مجوزہ بورڈ (سی آئی ڈی بی) شعبے کی ترقی اور ریگولیٹری نگرانی کا دوہرا کردار ادا کرے گا۔ سرکاری و نجی نمائندوں پر مشتمل بورڈ تعمیراتی معیار کو بین الاقوامی سطح پر لائے گا۔ سی آئی ڈی بی کے قیام پر حکومت اور کیپ کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔ بورڈ کے قیام کا فریم ورک باضابطہ منظوری کے لیے جلد وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی پیکیج سے مالیاتی اور پالیسی رکاوٹیں دور ہوں گی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھے گا۔ سرکاری منصوبوں کے ڈیفکٹ لائبلٹی پیریڈ (ڈی ایل پی) کو جلد ایک سال سے بڑھا کر 3 سال کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں ڈیفیکٹ لائبلٹی پیریڈ کو 5 سال تک بڑھانے کا واضح روڈ میپ موجود ہے۔
احد چیمہ نے کہا کہ انفراسٹرکچر مکمل ہوتے ہی خراب نہیں ہونا چاہیے، ٹھیکیداروں کو اعلیٰ معیار برقرار رکھنا ہوگا۔ ٹھیکیداروں کے برعکس کنسلٹنٹس کے لیے فی الوقت سزاؤں یا جرمانوں کا کوئی قانون موجود نہیں۔ سی آئی ڈی بی کے تحت کنسلٹنٹس کو بھی براہ راست نگرانی اور احتساب کے دائرے میں لایا جائے گا۔ ڈیزائن کی خامیوں اور تکنیکی غلطیوں پر کنسلٹنٹس کو قانونی و مالی طور پر جوابدہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان نے کنسلٹنٹس کے ریگولیٹری احتساب کی مکمل حمایت کی ہے۔ کنسٹرکشن ڈیولپمنٹ بینک کا فیصلہ اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی مالیاتی فیزیبلٹی پر ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی بنیادی توجہ ہر عوامی منصوبے کو سستا اور پائیدار بنانے پر ہے۔ عوامی فنڈز قومی امانت ہیں، ناقص کارکردگی یا غلط ڈیزائن سے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔











