روم، 25 ستمبر ( اے پی پی): وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے روم میں ایف اے او ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل کی وباؤں سے بچاؤ کے لیے حیوانی صحت میں سرمایہ کاری اور بنیادی سطح پر اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
انہوں نے انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے زور دیا کہ ایسے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا جو کسی بھی صحت کے خطرے کو بحران بننے سے پہلے بروقت شناخت اور قابو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو وسیع پیمانے پر موجود مویشیوں، انسانوں اور جانوروں کے قریبی روابط، آبادی کی نقل و حرکت اور بار بار آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث “ون ہیلتھ” کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حیوانی صحت کا تحفظ صرف جانوروں تک محدود نہیں بلکہ یہ عوامی صحت، غذائی تحفظ اور دیہی آبادی کے معاشی مفادات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
پینڈیمک فنڈ کے تحت پاکستان میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو تقریباً 18.7 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ 4.1 ملین ڈالر کی شریک مالی معاونت اور 49.7 ملین ڈالر کی مشترکہ سرمایہ کاری بھی متحرک کی گئی ہے۔
اس پروگرام کی قیادت وزارتِ قومی صحت کر رہی ہے، جبکہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اس میں مکمل تعاون فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ عالمی ادارۂ صحت، ایف اے او اور ایشیائی ترقیاتی بینک نفاذ میں معاون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ 18 ماہ سے بھی کم عرصے میں اس شعبے میں اہم کامیابی حاصل کی گئی ہے، جس کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ میں “قومی ون ہیلتھ سیکریٹریٹ” فعال کر دیا گیا ہے اور پانچ مختلف علاقوں میں ون ہیلتھ یونٹس اور رابطہ کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔حیوانی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویٹرنری لیبارٹری نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کا تقریباً تین چوتھائی کام مکمل ہو چکا ہے اور صوبائی لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبے حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی پہلی قومی پولٹری لیبارٹری کو بین الاقوامی معیار جانچ پروگرام میں شامل کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ الیکٹرانک اینیمل ڈیزیز رپورٹنگ اینڈ سرویلنس سسٹم کو بھی جدید بنایا جا رہا ہے، جس کی تمام صوبوں نے توثیق کی ہے۔ اس نئے نظام کے ذریعے مویشیوں کے ساتھ ساتھ پہلی مرتبہ جنگلی حیات اور آبی حیوانات کی بیماریوں کی نگرانی کو بھی اس دائرہ کار میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ صوبائی و ضلعی سطح پر فوری ردعمل کی ٹیمیں بھی تشکیل دی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے حیوانی صحت کا شعبہ وباؤں کی روک تھام کا بنیادی دروازہ ہے اور اس میں بروقت سرمایہ کاری سے ہی مستقبل کے معاشی و انسانی نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ان تجربات کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنے اور عالمی اداروں کے ساتھ تعاؤن کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔











