حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات میں دہشت گردی کے خاتمے اور نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر مکمل 100 فیصد اتفاق رائے ہو چکا تھا  ،سینیٹر طلال چوہدری

5

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت  برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہاہے  کہ حکومت اور اپوزیشن کے  درمیان  حالیہ مذاکرات میں دہشت گردی کے خاتمے اور نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر مکمل 100 فیصد اتفاق رائے ہو چکا تھا، حکومت نے ملک کی سلامتی کی خاطر اپوزیشن کو توقع سے بڑھ کر سیاسی رعایتیں اور میدان فراہم کر دیا تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آخری لمحات میں نئی رکاوٹیں ڈال کر پوری بات چیت کو سبوتاژ کر دیا،بتایا جائے آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ 11 برسوں سے جہاں سکیورٹی فورسز، دیگر سیاسی جماعتوں اور عام شہریوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں وہاں صرف پی ٹی آئی محفوظ ہے اور اس کے لیے شدت پسندوں کا رویہ نرم ہے، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر وفاق کے پاس گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت تمام آئینی آپشنز زیرِ غور ہیں، تاہم حکومت کی پہلی ترجیح اب بھی سیاسی حل اور مذاکرات ہی ہے۔

پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت   نے کہا کہ مذاکراتی عمل کی بنیادی ترجیح صرف دہشت گردی کا خاتمہ اور کے پی حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر ماضی کی عدم دلچسپی کا ازالہ ہے،اپوزیشن وفد نے وفاق کو یقین دلایا کہ وہ صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت کی جانب سے مکمل بااختیار ہیں، پہلے دن کے مذاکرات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پشاور جا کر وزیراعلیٰ کے پی اور دیگر رہنماؤں سے باقاعدہ توثیق حاصل کی اور وفاقی حکومت کو واضح یقین دہانی کرائی کہ دہشت گردی کے خاتمے اور وفاقی وزیر داخلہ کے پیش کردہ تمام نکات پر وہ سو فیصد متفق ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی انسدادِ دہشت گردی پر مکمل ساتھ دینے کو تیار ہے تو  انہوں نے تاریخی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ اپوزیشن کو جتنی سیاسی سپیس اور مطالبات درکار ہیں وہ دے دیے جائیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم کا دو ٹوک مؤقف تھا کہ سیاسی نفع  و نقصان عارضی چیز ہے، جس طرح معاشی دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے اپنی مقبولیت کی پروا نہیں کی گئی اسی طرح اگر 26 کروڑ عوام کو امن ملتا ہے اور روز اٹھنے والے شہدا کے جنازے رکتے ہیں تو اپوزیشن کو سیاسی رعایتیں دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، اس فیصلے کے بعد سیاسی امور، بانی کی صحت، ملاقاتوں اور رہنماؤں کے قانونی معاملات پر مشتمل مسودہ تیار کیا گیا اور اپوزیشن کی ہر تجویز کے مطابق متعدد بار ترامیم بھی قبول کی گئیں۔سینیٹر طلال چوہدری  نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب تمام سیاسی مطالبات تسلیم ہو گئے اور اپوزیشن کے پاس دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے سے پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز باقی نہ رہا تو وزیراعلیٰ کے پی سے فون پر رابطے کے فوراً بعد اپوزیشن وفد نے پینترا بدل لیا اور بغیر نظریں ملائے مذاکراتی عمل سے پیچھے ہٹ گئے ۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے براہِ راست سوالات پوچھے کہ خیبرپختونخوا میں جہاں جنازوں، شادیوں اور کارنر میٹنگز پر حملوں کا خطرہ ہوتا ہے وہاں پی ٹی آئی بلا روک ٹوک کیسے جلسے جلوس نکال لیتی ہے، 2015 کے بعد سے اب تک ان کا کوئی قومی یا صوبائی رہنما نشانہ کیوں نہیں بنا،  خیبرپختونخوا حکومت سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف ڈرون کے مؤثر دفاعی استعمال کی مخالفت کر کے کس کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر طلال چوہدری نے واضح کیا کہ ریاست کے دروازے بات چیت کے لیے کبھی بند نہیں ہوتے لیکن اب کسی بھی ڈائیلاگ کے لیے کڑی شرائط لاگو ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پر یلغار، دارالحکومت پر لشکر کشی اور سکول و امتحانات بند کروا کر معیشت کو مفلوج کرنے والے پرتشدد مارچ کا سلسلہ فوری طور پر ترک کرنا ہوگا، وزیر داخلہ کے پیش کردہ دہشت گردی کے نکات پر 100 فیصد عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بغیر آئندہ کوئی سیاسی رعایت نہیں ملے گی۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، صدرِ مملکت اور تمام ریاستی ادارے نیک نیتی کے ساتھ اس میز پر بیٹھے تھے اور اپوزیشن کو وہ سب دیا جا رہا تھا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا مگر پی ٹی آئی قیادت اپنے سیاسی بہانے ختم ہونے کے خوف سے فرار ہوئی۔ اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکیوں پر انہوں نے کہا کہ 26 کروڑ کے ملک کو چند ہزار کے جتھوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا، ریاست ماں کی طرح شفقت ضرور کرتی ہے لیکن جب ضدی بچے  اس  کے وجود اور امن کو چیلنج کریں تو ریاست کو باپ کی طرح قانون اور آئین کے تحت سخت فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں،  اس حوالے سے تمام تر قانونی و آئینی تیاریاں مکمل ہیں۔ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت  نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال پر وفاق کے پاس گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت تمام آئینی آپشنز زیرِ غور ہیں، تاہم حکومت کی پہلی ترجیح اب بھی سیاسی حل اور مذاکرات ہی ہے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ ریاست ماں کی طرح شفقت ضرور کرتی ہے مگر رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف باپ کا سخت کردار ادا کرنے کے لیے تمام آئینی و قانونی تیاریاں مکمل ہیں۔