اسلام آباد،6اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دھرنوں اور احتجاج کی سیاست کو قومی معیشت اور پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیےنہایت نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنوں کی سیاست سےمعیشت کو نقصان پہنچانا ملک دشمنی ہے ،پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لے اور احتجاجی سیاست سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ادراک کرتے ہوئے لانگ مارچ ختم کرے، حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے گی، حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے بامعنی اور پرخلوص مذاکرات سے مسائل کا مل بیٹھ کر حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کویہاں کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کی ترقی اورمعاشی استحکام کے لیے دن رات کوشاں ہے ، ہم نے اڑھائی سال کی محنت سےملکی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا،ملکی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ۔ ایک طرف ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف بدقسمتی سے ایک بار پھر لانگ مارچ،دھرنے اور احتجاج کی بھیانک سیاست نمودار ہورہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے باہمی مشاورت سے طے کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ بامعنی،بامقصد اور خلوص پر مبنی بات چیت کریں تاکہ لانگ مارچ،دھرنے اور احتجاج کی سیاست کا خاتمہ کریں اور مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں،حکومت اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے دودن تک سپیکر چیمبر میں ان سے بات چیت کی،امید تھی کہ بات چیت کے مثبت نتائج نکلیں گے اور دھرنوں کی سیاست ڈائیلاگ سے ختم ہوگی، دونوں جماعتوں نے سنجیدگی سے پی ٹی آئی سے بات کی تاہم دوسری طرف سے طے شدہ مسودہ کو باربار تبدیل کیا گیا جس سے ان کا مقصد واضح تھا کہ بات چیت کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔
وزیر اعظم نے دو ٹوک طور پر کہا کہ دھرنے اور احتجاج کی سیاست سے ملکی معیشت نشانہ بنے گی، برآمدات،صنعتی پیداوار متاثر ہوگی جو ملک و قوم کا نقصان ہوگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اڑھائی سال میں اجتماعی کاوش سے ملکی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا،ملک میں معاشی استحکام آیا،میکرو اکنامک استحکام بہت مشکل سے حاصل ہوا،کیا ترقی کے پہیے کو دوبارہ جام کرنا ملک دشمنی نہیں؟ کیا اس سے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا مقصود ہے.
انہوں نے کہا کہ ستمبر میں گزشتہ سال ستمبر اور پورے سال کے مقابلہ میں برآمدات میں اضافہ ہوا،آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا،ترسیلات زر بڑھیں،ملکی پیداوار میں اضافہ ہوا،اس کو احتجاج اور دھرنوں سے نقصان پہنچانا ملک دشمنی ہے۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، ہماری معیشت میں بہتری کا اعتراف اغیار بھی کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لے،وہ احتجاج اور لانگ مارچ کے اثرات پر غور کرے کہ اس سے قوم کو فائدہ ہوگا یا نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے کہا کہ وہ احتجاج اور دھرنے سے ملک کو پہنچنے والے نقصان کا ادراک کرتے ہوئے لانگ مارچ ختم کرے۔حکومت بات چیت کرکے مسائل کا حل نکالے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کی یہی خواہش ہے کہ امانت اور دیانت سے ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیاہے،وزیرداخلہ نے اس کی تکمیل ایک ماہ میں کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر وزیر داخلہ اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر چوک کشمیر کے نام سے منسوب ہے،یہی شاہراہ ایک دن سری نگر تک پہنچے گی،کشمیریوں کو آزادی اور بنیادی حقوق ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایسے ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو سفری سہولیات بہم پہنچانا ہوتا ہے،کشادہ سڑکوں اور بلارکاوٹ سفری سہولیات سے وقت کی بچت اور منزل پر بروقت پہنچنے میں معاون ہوتی ہیں،اس سے ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کا سفر تیز ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ایک جدید، مختلف اور مثالی خوبصورت شہر میں تبدیل کرنے کا وژن دیا ہے۔ کانفرنس کے انعقاد میں ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، لہٰذا تمام ترقیاتی منصوبوں کو دن رات کام کر کے مقررہ مدت کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان آنے والے غیر ملکی معزز مہمانوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہو۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے خصوصی ٹاسک سونپا ہے کہ کشمیر چوک انڈرپاس سمیت اہم ٹریفک اور انفراسٹرکچر منصوبے ایس سی او کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہر صورت مکمل کیے جائیں۔ اس نئے انڈرپاس اور ایکسپریس وے کی سروس لینز کی تکمیل سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کے مسافروں کو روزمرہ نقل و حرکت میں نمایاں سہولت ملے گی اور دونوں شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہو کر صرف 16 سے 18 منٹ رہ جائے گا۔
محسن نقوی نے دارالحکومت کے ماحول اور سیاحت کے حوالے سے اہم اعلانات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے ایف نائن پارک کو بین الاقوامی معیار کے جدید تفریحی مرکز میں ڈھالا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دارالحکومت میں ایشیا کا سب سے بڑا سفاری پارک بنانے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جو ماحولیاتی اور تفریحی شعبے میں ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور شہر کو سرسبز و صاف ستھرا رکھنے کی حکومتی پالیسی کے تحت 31 دسمبر تک اسلام آباد کو مکمل طور پر ’پلاسٹک فری سٹی‘ بنانے کے ہدف پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا منصوبہ اسلام آباد کو کیش لیس کرنا ہے ۔ ان دونوں منصوبوں کی نگرانی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کر رہے ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا، یہ منصوبہ 1 ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ماہ میں مکمل ہوگا ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کو کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے بارے بریفنگ دی گئی ۔منصوبے کے تحت یہاں تین رویہ انڈر پاس تعمیر ہوگا۔اس منصوبے کی تکمیل سے سے فیض آباد،بہارہ کہو،مری،آزادکشمیر کی ٹریفک بغیر کسی رکاوٹ کے رواں دواں رہے گی۔
تقریب میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ،وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت طلال چوہدری بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔











