اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ان کے نمایاں بین الاقوامی کردار، اقوام متحدہ کی قیادت اور عالمی امن و ترقی کے لیے خدمات کے اعتراف میں پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’نشان امتیاز‘‘ عطا کیا ہے۔یہ اعزازپاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے کسی بھی سیکرٹری جنرل کو پہلی مرتبہ دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں اعزاز دینے کی خصوصی تقریب منگل کی شام ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان، ارکان پارلیمنٹ اور سفارتی کور کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس موقع پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہو ئےاعلیٰ قومی اعزاز ملنے پر گہرے تشکر کا اظہار کیا ۔ انھوں نے کہا کہ یہ اعلیٰ اعزاز حاصل کرکے میں بے حد متاثر اور دل کی گہرائیوں سے مسرور ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں یہ اعزاز اقوام متحدہ کے ان تمام خواتین و حضرات کی جانب سے قبول کرتا ہوں جو دنیا بھر میں بشمول اس عظیم ملک پاکستان میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سےمیری مدت کار اختتام کے قریب ہے اور میں بحیثیت سیکرٹری جنرل پاکستان کا ایک آخری دورہ کرنے کے لیے پرعزم تھا۔ اپنے تاثرات میں انتونیو گوتریس نے عظیم شاعر و فلسفی علامہ محمد اقبال کا بالخصوص حوالہ دیا جس میں وہ افراد کے بارے میں بات کر رہے تھے، لیکن ان کے یہ الفاظ کسی بھی قوم کے بارے میں اتنے ہی موزوں ہیں۔ انہوں نےتحریر کیا: ’’اپنی مٹھی بھر خاک سے ایک ایسا جسم تخلیق کرو جو قلعے سے زیادہ مضبوط ہو، اور اس جسم کے اندر ایسا دل رکھو جو دکھ محسوس کرے،جیسے پہاڑ کے دامن میں بہنے والی ندی ہو۔
‘‘ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو میں اسی انداز میں دیکھتا ہوں، ایک ایسا ملک جو طاقت کا حامل ہے، ایک ایسا ملک جو عزم کا پیکر ہے اور ایک ایسا ملک جو ہمدردی اور درد دل سے مالا مال ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے دوران صدر مملکت نے اقوام متحدہ کی اصولی قیادت، عالمی امن، مکالمے، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔ صدر نے پاکستان کے ساتھ ان کے تعمیری روابط اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل پر ان کی توجہ کی بھی تعریف کی۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام اور ان کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی مسلسل حمایت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
صدر نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان برابری کی بنیاد پر ہمسایوں کی حیثیت سے مسلسل مذاکرات اور تمام دیرینہ تنازعات بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازعے کا حل ضروری ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے طے کیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے یکطرفہ طور پر معطل یا غیر موثر نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار یا سیاسی دبائو کے ذرائع کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور معاہدے کے تحت پاکستان کے آبی حقوق، جنہیں بین الاقوامی عدالتوں نے بھی تسلیم کیا ہے، کا احترام کیا جانا چاہیے۔علاقائی امن اور سفارت کاری پر گفتگو کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سمیت پاکستان کی سفارتی کوششیں،کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور انسانی جانوں کے تحفظ کے بنیادی اصولوں کے تحت کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاں بھی مفید ہو، سفارت کاری میں سہولت کاری کے لیے تیار ہے، کیونکہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک پرعزم شراکت دار ہے اور اس مقصد کے لیے بے پناہ قربانیاں دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کا سامنا ہے اور پاکستان نے اپنی سرزمین کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد پراکسیز کے لیے بیرونی معاونت کے شواہد بھی فراہم کیے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے عوام اور سرزمین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مذاکرات اور علاقائی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔صدر زرداری نے اقوام متحدہ کی امن مشنز میں پاکستان کی طویل اور نمایاں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 270,000 سے زائد پاکستانی امن دستوں نے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے 48 مشنز میں خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی امن کوششوں کو ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔صدر نے سیکرٹری جنرل کی جانب سے یواین 80انیشیٹوکی قیادت پر ان کو سراہا اور اقوام متحدہ کو زیادہ موثر، مربوط اور فعال بنانے کی کوششوں کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے عمل میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا تحفظ، پائیدار ترقی میں تیزی، تنازعات کی روک تھام، امن کوششوں اور قیامِ امن کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ سیکرٹری جنرل اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھائیں گے اور عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی تعاون میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو برقرار رکھیں گے۔موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان جیسے موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی تبدیلی ایک وجودی چیلنج ہے۔
انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی، موافقت اور موسمیاتی مالی معاونت کے لیے عالمی سطح پر مزید مضبوط اقدامات پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو جمہوری بنانے کی حمایت کرتا ہے اور کونسل میں غیر منتخب رکنیت کے اضافے یا توسیع کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستان مساوی جغرافیائی نمائندگی کے اصول کے تحت منتخب غیر مستقل ارکان کے ذریعے زیادہ موثر نمائندگی کا حامی ہے۔صدرمملکت نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ذاتی یکجہتی کو بھی سراہا جس میں ان کا متاثرہ علاقوں کا دورہ، بین الاقوامی امداد متحرک کرنے اور جنیوا میں امدادی وعدوں کے عمل کو آگے بڑھانے میں کردار بھی شامل ہے۔
آصف زرداری نے بتایا کہ سیلاب کے بعد تعمیر نو کے عمل میں 21 لاکھ موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ گھر تعمیر کیے گئے، جن کی ملکیت مستحق خاندانوں کی خواتین ارکان کو دی گئی۔ انہوں نے اس اقدام کو موسمیاتی لچک، تعمیر نو اور خواتین کے معاشی اختیار کو باہم مربوط کرنے کا ایک اہم ماڈل قرار دیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہاکہ برسوں پاکستانی عوام کی مہمان نوازی دیکھی ہے جب انہوں نے لاکھوں لوگوں کو پناہ فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دہشت گردی کی بربریت کا سامنا کرتے ہوئے آپ کی یکجہتی اور استقامت دیکھی ہے، میں حقیقی پاکستان کو جانتا ہوں کیونکہ میں نے حقیقی پاکستان کو دیکھا ہے، لہٰذا میں اس اعزاز کے لیے جو آپ نے مجھے اور اقوام متحدہ کو عطا کیا، آپ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس چیز کے لیے بھی آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو آپ نے دنیا کو دی۔
ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کی جانب سے انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلواور قائم مقام ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر پرنیل آئرن سائیڈبھی موجود تھیں۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والااور سابق وفاقی وزیر نوید قمر بھی اس موقع پر موجود تھے۔











