اسلام آباد،27اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے داخلے، ناجائز وجبری قبضے پر مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کی کشمیر اور خود ارادیت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد اور قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ قراردادوں کے مطابق جموں اور کشمیر کے پرامن حل اور کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آج سے تقریبا 78 سال پہلے 27 اکتوبر کو 1947 کو بھارتی افواج نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے اس کے خلاف ایک طویل قربانیوں کی داستان رقم کی ،جتنی شہادتیں ہوئی ہیں اگر 1989 سے اس کا شمار کیا جائے تو تقریبا 97 ہزار لوگوں نے شہادت قبول کی۔انہوں نے کہا کہ دو لاکھ گھروں کو مسمار کیا گیا جیل میں بھی 7 ہزار لوگوں کو شہید کیا گیا لیکن ان کے دلوں میں آج تک آزادی کا جذبہ قائم ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے آئین میں کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے آئینی شقوں کو حذف کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستان سے باہر آزاد جموں و کشمیر وگلگت بلتستان سمیت اس معاملے پر ہر جگہ یوم سیاہ منایا جا رہا ہے ،ہم نے اس حوالے سے ایک ریلی بھی نکالی اور جلسہ بھی ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔
انہوں نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان 27 اکتوبر 1947 کو جموں اور کشمیر میں بھارتی افواج کے داخلے، ناجائز وجبری قبضے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صورتحال کو مسئلہ کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیتا ہے ۔یہ ایوان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی کشمیر اور خود ارادیت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد اور قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔یہ ایوان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متفقہ قراردادوں کے مطابق جموں اور کشمیر کے پرامن حل اور کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کی اہمیت پر زور دیتا ہے ۔یہ ایوان پاکستان کے اس اصولی موقف کا اعادہ کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل کشمیری عوام کی امنگوں اور حق خود ارادیت کے احترام کے بغیر ممکن نہیں لہذا یہ ایوان کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان کے حق کے خود ارادیت کی مہم کا کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کے لیے اپنی متفقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرائے اور کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حق خود ارادیت دلانے کے لیے موثر کردار ادا کرے یہ ایوان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز اور مؤثر بنائے۔یہ ایوان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کشمیری عوام کی جدوجہد اور ان کی حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے۔بعد ازاں پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون نے ایوان میں قرارداد کا انگریزی متن پیش کیا۔قومی اسمبلی نے قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔









