قومی اسمبلی اجلاس: نومنتخب رکن منیب اقبال چنڑ کی حلف برداری، پینل آف چیئرپرسنز کا اعلان، شہداء کے لیے دعائے مغفرت، سابق رکن بشیر احمد ورک کو خراج عقیدت

4

اسلام آباد۔13 اکتوبر (اے پی پی): قومی اسمبلی کے اجلاس میں نومنتخب رکن منیب اقبال چنڑ نے بطور رکن قومی اسمبلی حلف اٹھا لیا، اسپیکر سردار ایاز صادق نے ان سے حلف لیا۔

اجلاس میں چھ رکنی پینل آف چیئرپرسنز کے ناموں کا اعلان کیا گیا جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ ارکان قومی اسمبلی نے سابق رکن قومی اسمبلی بشیر احمد ورک مرحوم کو ان کی سیاسی، قانونی اور پارلیمانی خدمات پر بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔

منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایازصادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں نومنتخب رکن قومی اسمبلی منیب اقبال چنڑ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ان سے حلف لیا۔اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے موجودہ سیشن کے لیے چھ رکنی پینل آف چیئرپرسنز کے ناموں کا اعلان کیا۔ اعلان کے مطابق پینل میں علی زاہد، عبدالغفور پٹیل، قیام الحق، سید شہزار عباس، میاں حسین اور کشور خان شامل ہیں۔

اسپیکر نے بتایا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی عدم موجودگی میں پینل میں شامل ارکان مقررہ ترجیحی ترتیب کے مطابق ایوان کی کارروائی کی صدارت کریں گے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

اجلاس میں کیپٹن فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر سمیت دیگر شہداء کی قربانیوں کا ذکر کیا گیا۔ کوہاٹ میں پولیس لائنز پر دہشت گرد حملے میں ایس پی ٹریفک حیدر شنواری سمیت شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں، ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے 14 شہریوں اور کوئٹہ میں تربیتی طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے بھی دعا کی گئی۔

اجلاس میں سابق رکن قومی اسمبلی بشیر احمد ورک مرحوم کی سیاسی، پارلیمانی اور قانونی خدمات کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے مرحوم کی شخصیت، اصول پسندی، پارلیمانی خدمات اور قانون کی بالادستی کے لیے ان کے کردار کو سراہا۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بشیر احمد ورک ایک مدبر، متحمل مزاج، شفیق اور اصول پسند پارلیمنٹیرین تھے۔

ان کا مرحوم کے ساتھ تعلق محض پارلیمان تک محدود نہیں تھا بلکہ وکالت کے ابتدائی دور سے ہی ان کے ساتھ قریبی تعلق رہا۔

انہوں نے کہا کہ بشیر احمد ورک نے انہیں پیشہ ورانہ زندگی کے آداب، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور مشکل ترین حالات میں بھی حوصلے اور مسکراہٹ کے ساتھ مسائل کا سامنا کرنے کا درس دیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بشیر احمد ورک پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے اور انہوں نے اپنے طویل سیاسی سفر میں ہمیشہ اپنے قائد محمد نواز شریف کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ مشکل سیاسی حالات میں بھی وہ اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے اور انہیں سونپی گئی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔

انہوں نے کہا کہ بشیر احمد ورک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ پیچیدہ اور حساس قانونی معاملات کو نہایت دانشمندی، باریک بینی اور تحمل سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کمیٹی کے اجلاسوں میں تمام ارکان کو اپنی رائے پیش کرنے کا بھرپور موقع فراہم کرتے اور اختلافی معاملات کو افہام و تفہیم سے آگے بڑھاتے تھے۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف کے افسران اور عملہ بھی مرحوم کے حسن سلوک، پیشہ ورانہ قابلیت اور مثبت طرز عمل کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا سے رخصت ہونے والے افراد اپنے کردار، خدمات اور خوشگوار یادوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ بشیر احمد ورک کی شخصیت اور پارلیمانی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بشیر احمد ورک ایک اصول پسند، باوقار اور آزادانہ رائے رکھنے والے پارلیمنٹیرین تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنے ضمیر اور اصولوں کے مطابق فیصلے کیے۔ وہ کبھی محض پارٹی مؤقف کی بنیاد پر اپنی رائے تبدیل نہیں کرتے تھے بلکہ قانونی اور اصولی تقاضوں کو ترجیح دیتے تھے۔

سید نوید قمر نے کہا کہ انہیں بشیر احمد ورک کے ساتھ پانچ پارلیمانی ادوار میں مختلف کمیٹیوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران مرحوم مختلف حیثیتوں سے پارلیمانی امور میں شریک رہے لیکن ان کے رویے، اصول پسندی، شائستگی اور دوسروں کے احترام میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ بشیر احمد ورک قانونی معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے اور بعض اوقات حکومتی نمائندوں اور وزیر قانون کے مؤقف سے اختلاف بھی کرتے تھے۔

وہ کسی معاملے پر صرف اس لیے اتفاق نہیں کرتے تھے کہ ان کی سیاسی جماعت کا مؤقف ایسا ہے بلکہ ہمیشہ اپنی قانونی بصیرت اور اصولی سوچ کے مطابق رائے دیتے تھے۔

سید نوید قمر نے کہا کہ بشیر احمد ورک کی شخصیت میں ایک قانون دان کی سوچ ہمیشہ نمایاں رہی۔ انہوں نے عدالتی نظام کی نچلی سطح سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور قانون و انصاف سے وابستگی ان کی شخصیت کا اہم حصہ رہی۔

وہ پہلے ایک سچے قانون دان اور پھر پارلیمنٹیرین تھے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان میں بہت سے لوگ آتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرکے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن بشیر احمد ورک اپنے پیچھے محبت، احترام اور ایسی خوشگوار یادیں چھوڑ گئے ہیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ ان کی جگہ پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔

ارکان قومی اسمبلی نے کہا کہ بشیر احمد ورک کی وفات سے پارلیمان ایک تجربہ کار، اصول پسند اور باوقار سابق رکن سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کی سیاسی، قانونی اور پارلیمانی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مرحوم کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی گئی۔