لاہور، 2 اکتوبر (اے پی پی): سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب سے ورلڈ بینک کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پنجاب میں ڈیجیٹائزیشن، زرعی و صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مریم اورنگزیب نے وفد کو حکومت پنجاب کی ترجیحات اور اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق شہریوں کو ڈیجیٹل ذرائع سے شفاف اور مؤثر خدمات کی فراہمی حکومت کا مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مریم کی دستک‘‘، ای خدمت مراکز، ای بیز اور ای پے جیسے منصوبے ڈیجیٹائزیشن کی کامیاب مثالیں ہیں۔
اجلاس میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور نجی شعبے کے تعاون سے فائبر نیٹ ورک بچھانے کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سینئر وزیر نے بتایا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ورلڈ بینک کے تعاون سے 5G رفتار کے انٹرنیٹ کی فراہمی پر کام کر رہا ہے۔
زرعی شعبے کے حوالے سے مریم اورنگزیب نے کہا کہ کسانوں کو سپر سیڈرز اور جدید زرعی مشینری کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اجلاس میں زرعی سرمایہ کاری، ماحول دوست اقدامات، ڈیری فارمنگ کے فروغ اور کسان کارڈ کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت پر بھی غور کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ تین سے پانچ سال کے دوران گندم، چاول اور دیگر بڑی فصلوں کی پیداوار میں 30 فیصد تک اضافے کا ہدف ہے۔ نہری نظام میں بہتری کے ذریعے ٹیل اینڈ تک پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات بھی زیر غور آئے۔ ورلڈ بینک کے وفد نے پنجاب حکومت کے انسدادِ سموگ اقدامات کو سراہا۔
اجلاس میں صنعتی ترقی کے لیے STEP پروگرام، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت، آسان فنانسنگ، ای کامرس اور برآمدات کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف آئی ٹی سٹی کے ذریعے ٹیکنالوجی انڈسٹری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل سروسز، مصنوعی ذہانت اور جدید صنعتی انفراسٹرکچر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
سینئر وزیر نے پنجاب کو جدت، سرمایہ کاری اور برآمدات کا مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ورلڈ بینک کے وفد کو بسنت کے تہوار میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کوششوں سے 25 سال بعد بسنت کا تہوار بحال ہوا ہے۔











