معاشی استحکام، پائیدار ترقی اور مالی سہولیات تک رسائی حکومت کی اہم ترجیحات ہیں، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب

0

اسلام آباد، 7 اکتوبر(اے پی پی):وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی استحکام، پائیدار ترقی، ساختی اصلاحات، تجارت و سرمایہ کاری، نئی معیشت اور مالی سہولیات تک رسائی حکومت کی اہم ترجیحات ہیں۔ گزشتہ اڑھائی برس کے دوران پاکستان نے معاشی استحکام کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک کی سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے ہیں اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے۔ عالمی سرمایہ منڈیوں میں پاکستان کی واپسی اور سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت ملک پر اعتماد کی عکاس ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانا پائیدار اقتصادی سرگرمی اور مستحکم معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ آئندہ مرحلے میں پائیدار اور ذمہ دارانہ اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ پاکستان کی معیشت نے گزشتہ مالی سال میں ترقی کی اور رواں مالی سال میں مزید معاشی نمو متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں، نجکاری اور عوامی مالیات میں اصلاحات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ حکومت اقتصادی سرگرمیوں میں نجی شعبے کے کردار کو مزید بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ نجی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی پاکستان کی معیشت پر اعتماد کی عکاس ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات معاشی ترقی کے لیے اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ویب تھری سمیت نئی معیشت کے لیے پاکستان کو خود کو بہتر طور پر تیار کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کی موجودہ مہارتوں میں بہتری اور نئی مہارتوں کی تربیت کے ذریعے انہیں زیادہ قدر والی ڈیجیٹل خدمات سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام اور مالی سہولیات تک محدود رسائی رکھنے والی کمیونٹیز کے لیے مالی وسائل تک رسائی میں مزید بہتری لائی جائے۔ سستی رہائش، چھوٹے کسانوں، ایس ایم ایز اور زرعی شعبے کے لیے مالی معاونت بڑھانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس شعبے کے درمیان مضبوط تعاون مالی شمولیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ رسائیِ مالیات سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی اور پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک مالی نظام میں مزید افراد اور کاروباری طبقات کو شامل کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مائیکروفنانس اداروں کو ڈیجیٹل قرضوں کے نظام کو مضبوط، صارفین کے تجربے کو بہتر اور مؤثر کریڈٹ اسکورنگ ماڈلز تیار کرنے چاہئیں۔ قرضوں کی فراہمی میں متبادل ڈیٹا اور ڈیجیٹل کریڈٹ نظام کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ زیادہ افراد اور کاروبار مالی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مائیکروفنانس شعبے کو قرضوں کے حقیقی معاشی اور سماجی نتائج پر توجہ دینی چاہیے۔ زرعی شعبے اور ایس ایم ایز میں نئے قرض لینے والوں کی تعداد بڑھانا مائیکروفنانس شعبے کی اہم ترجیح ہونی چاہیے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹے قرض لینے والوں کی درمیانے اور بڑے کاروبار میں ترقی، روزگار کے مواقع اور خواتین کی معاشی شمولیت کو بھی کامیابی کے پیمانوں میں شامل کیا جائے۔ خواتین کاروباری افراد کی شمولیت میں اضافہ مالی شمولیت اور پائیدار معاش کے فروغ کے لیے اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مائیکروفنانس میں نتائج پر مبنی پیمائش مالی شمولیت، پیداواری سرگرمی اور پائیدار معاش کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔ مائیکروفنانس شعبے کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں عوام، کاروباری اداروں اور کمیونٹیز تک مالی سہولیات کی رسائی بڑھانے کے لیے کانفرنس کی گفتگو اہم ہے۔