موسمیاتی تبدیلیوں سے آم کی پیداوار متاثر ، زرعی ترقی کیلئے 17 اسکیموں پر کام جاری، چینی کی قیمتوں میں استحکام کیلئے وفاقی و صوبائی سطح پر نگرانی کا نظام فعال ہے، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک

0

اسلام آباد، 22 اکتوبر (اے پی پی): وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان میں آم کی پیداوار پر اثر انداز ہو رہی ہیں، جبکہ زرعی شعبے کو نقصان دہ کیڑوں، فصلوں کی بیماریوں اور دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ حکومت زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، کسانوں کو سبسڈی کی فراہمی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں تقریباً 17 اسکیمیں موجود ہیں، جبکہ چینی سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر پرائس کنٹرول اور مانیٹرنگ کمیٹیوں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے تحقیق، فیلڈ سرویز اور جدید زرعی طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آم سمیت مختلف زرعی اجناس اور پھلوں کی پیداوار میں اضافے، فصلوں کے تحفظ اور زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں 2025-26 سے 2027-28 کے دوران زرعی شعبے کی بہتری کے لیے مختلف پروگراموں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان منصوبوں میں آبپاشی کے نظام کی بہتری، کھالوں کی اصلاح و بحالی، جدید زرعی مشینری کی فراہمی اور زرعی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنا شامل ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ایگریکلچرل فارم میکانائزیشن منصوبے کے تحت کسانوں کو جدید زرعی مشینری کے حصول کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پروگرام کے تحت 7 ہزار 500 کسانوں کے لیے 60 فیصد سبسڈی کی سہولت رکھی گئی ہے، جبکہ ایک دوسرے انتظام کے تحت ایک ہزار 600 کسانوں کو بھی 60 فیصد سبسڈی فراہم کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور مشینری کی فراہمی کے لیے بینکوں کی معاونت سے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ پنجاب میں عالمی بینک کے تعاون سے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے پروگرام جاری ہے، جس کے تحت تحقیقاتی اداروں کی استعداد کار بڑھانے، جدید آلات کی فراہمی اور زرعی تحقیق کے معیار میں بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے فیصل آباد میں سینٹر فار انوویشن ان ایگریکلچر قائم کیا گیا ہے، جہاں جدید زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں زرعی توسیعی خدمات کو جدید بنانے کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ کسانوں کو نئی تحقیق، جدید طریقہ کاشت اور فصلوں کے تحفظ سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔

اس سے قبل ایک خاتون رکن قومی اسمبلی نے آم کی پیداوار پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، کسانوں کے روزگار کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والی آم کی اقسام کی تیاری کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی آم دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں اور ان کی برآمدات ملکی معیشت اور باغبانی کے شعبے کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔

بعد ازاں رکن قومی اسمبلی نزہت صادق نے پنجاب میں 100 کسان مراکز کے قیام، انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی توسیعی خدمات کی فراہمی اور ترشاوہ پھلوں کے شعبے کی بحالی کے منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی جواب میں ترشاوہ پھلوں کے شعبے کی بحالی کے لیے 15 فارمر فیلڈ اسکولز کے قیام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور تکمیل کی مدت سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔

چینی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے متعلق ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم کی جانب سے پرائس کنٹرول اور پرائس مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ پنجاب سمیت دیگر صوبائی حکومتوں نے بھی قیمتوں کی نگرانی کے لیے اپنے انتظامی نظام اور کمیٹیاں قائم کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ وزارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مارکیٹ کی صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ موجودہ آئینی و انتظامی نظام کے تحت مقامی منڈیوں میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی، قیمتوں کی نگرانی اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کی ذمہ داری کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ وفاقی حکومت بھی متعلقہ اداروں کے ذریعے قیمتوں اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کی صورتحال پر نظر رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے شفافیت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کا مقصد قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو روکنا، نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔

اس سے قبل ایک رکن قومی اسمبلی نے چینی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دکانداروں کی جانب سے مختلف نرخوں پر فروخت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے عوام کو اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر دستیاب ہوتی تھیں، تاہم اب مختلف بازاروں اور دکانوں پر قیمتوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطے اور قیمتوں کی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی، کسانوں کو سہولیات کی فراہمی، زرعی پیداوار میں اضافے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کے تعاون سے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔