پشاور، 22 اکتوبر (پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کا ایک اہم اور اعلٰی سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کے فوراً بعد انہوں نے قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل (ARDC) کے ارکان سے بھی الگ ملاقات کی، جبکہ ان دونوں اجلاسوں کا بنیادی مقصد صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا کی مجموعی امن و امان اور انتظامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینا، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی عزم کا اعادہ کرنا اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات کی منظوری دینا تھا، اسی تناظر میں وزیراعظم نے صوبے کی پائیدار ترقی، عوامی فلاح اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے “بدلتا، نکھرتا، مضبوط خیبر پختونخوا” پروگرام کے تحت 160 ارب روپے مختص کرنے کا اہم اعلان بھی کیا۔
اجلاس کے دوران صوبے کے انتظامی امور، حکومتی نظام میں اصلاحات، اداروں کے احتساب، شفافیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ طویل عرصے سے درپیش انتظامی مسائل کے حل کے لیے بالخصوص ضم شدہ اضلاع اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔
ایپکس کمیٹی نے دہشت گردی کی تمام اشکال کے مکمل خاتمے اور دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے قومی عزم کا اعادہ کیا اور واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس کے لیے تمام ریاستی اداروں کے درمیان مسلسل رابطے اور خفیہ معلومات کا مؤثر تبادلہ ضروری ہے۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے، انہیں جدید آلات اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور ریاستی عمل داری کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیاں اور شہدا کی خدمات قابلِ فخر ہیں، اور صوبے میں پائیدار امن کا قیام، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معاشی ترقی کو تیز کرنا وفاقی حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے۔
مختص کیے گئے 160 ارب روپے کی امدادی رقم کے ذریعے خیبر پختونخوا کے بالخصوص ضم شدہ اور پسماندہ اضلاع میں تعلیم، صحت، روزگار، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا تاکہ سیکورٹی فورسز کی کامیابیوں کو عملی و معاشی ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔
ترقیاتی کونسل (ARDC) کے ارکان نے دہشت گردی کو شکست دینے اور سیکورٹی فورسز کی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ پائیدار امن و سلامتی ہی معاشی خوشحالی اور عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے آخری اور فیصلہ کن کوشش کی جائے کیونکہ ناکامی کا کوئی آپشن موجود نہیں ہے اور کوئی بھی دھمکی قوم کے پُرامن مستقبل کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی۔
اجلاس کے اختتام پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہدا کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور اس عزم کو دہرایا گیا کہ قوم کے اتحاد اور ثابت قدمی سے صوبے اور ملک کو پُر امن اور خوشحال بنایا جائے گا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزراء محسن نقوی، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، انجینئر امیر مقام، اعظم نذیر تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد خان لغاری، احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان، کور کمانڈر پشاور اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔











