وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے نیدرلینڈز کے کاروباری وفد کی ملاقات، دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال

4

اسلام آباد ، 9 اکتوبر(اے پی پی ): وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے فاؤنڈرز کاربن نیٹ ورک کی قیادت میں پاکستان کے دورے پر آئے نیدرلینڈز کے کاروباری و سرمایہ کار وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے نیدرلینڈز کے کاروباری وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، وفد کے ہمراہ پاکستان میں مملکتِ نیدرلینڈز کے سفیر، مسٹر رابرٹ جان سیگرٹ سمیت وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری تجارت اور وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے پاکستان میں دلچسپی لینے پر وفد کو سراہا اور کاروباری روابط، باہمی افہام و تفہیم اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نیدرلینڈز کی کاروباری برادریوں کے درمیان مسلسل روابط سے تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی، شراکت داریوں کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے میں مدد ملے گی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے معاشی منظرنامے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے ثمرات کو پیداواری سرمایہ کاری، سرمائے کی تشکیل، برآمدات میں اضافے اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا اگلا مرحلہ برآمدات، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر مبنی ہونا چاہیے، جس کے لیے مسلسل ساختی اصلاحات اور نجی سرمائے کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرنا ضروری ہے۔

وزیرِ خزانہ نے حکومت کی اہم اقتصادی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان میں معاشی استحکام کو مستحکم کرنا اور مالیاتی و بیرونی شعبوں کی مضبوطی بڑھانا، پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب پیش رفت، ساختی اصلاحات پر عمل درآمد، امداد پر انحصار سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، زراعت، رہائش اور محروم طبقات کے لیے مالی سہولیات تک رسائی بڑھانا، اور ڈیجیٹلائزیشن و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے نئی معیشت سے استفادہ کرنا شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.4 ارب امریکی ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنا اور بیرونی معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں ملکی معیشت کی مضبوطی بڑھانا سرمایہ کاروں کے اعتماد اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کو درپیش دو اہم وجودی چیلنجز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں عوامل اقتصادی پائیداری، انسانی ترقی اور طویل مدتی استقامت پر اثرانداز ہوتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مسلسل پالیسی توجہ اور مربوط اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان تعاون کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ نیدرلینڈز کی مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کی تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کو نجی سرمایہ متحرک کرنے، خصوصی مہارت سے فائدہ اٹھانے اور سرمایہ کاری میں دلچسپی کو تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے نجکاری اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور تجارتی سرگرمیوں میں نجی شعبے کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معاشی استحکام، بیرونی شعبے کی مضبوطی اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کی اہمیت اجاگر کی، جو پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں معاون ہیں۔ انہوں نے تجارتی سہولت کاری پر بھی روشنی ڈالی اور تجارتی سہولت کاری بورڈ کے کردار کو اہم قرار دیا، جو تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور اداروں کے درمیان رابطہ و ہم آہنگی مضبوط بنانے میں معاون ہے۔

نیدرلینڈز کے کاروباری وفد نے پاکستان میں کاروباری ماحول اور دوطرفہ تعاون سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کاروباری روابط کو مضبوط بنانے، مشترکہ مفادات کے شعبوں کی نشاندہی اور قابلِ عمل شراکت داریوں کے فروغ کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان قریبی کاروباری روابط کو سرمایہ کاری، تجارت اور طویل مدتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں مشترکہ دلچسپی کو اجاگر کیا گیا۔ حکومت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور پاکستان کی معاشی ترقی میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔