پاکستانی برآمدات بڑھانے، عالمی منڈیوں تک رسائی اور صنعتی مسابقت کے لیے حکومت کے جامع اقدامات جاری ہیں، رانا احسان افضل

3

اسلام اآباد،16 اکتوبر(اے پی پی ) وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صنعت و تجارت رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافے، عالمی منڈیوں تک رسائی اور صنعتی مسابقت کے فروغ کے لیے حکومت جامع اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے پی آئی ڈی ای کانفرنس کے اختتامی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی برآمدات کو نمایاں طور پر بڑھانے اور ملک کو برآمدات پر مبنی معیشت بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس مقصد کے لیے تجارتی پالیسیوں میں بہتری، کاروباری سہولتوں کے فروغ اور صنعتی شعبے کی استعداد بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

رانا احسان افضل نے کہا کہ قومی ٹیرف پالیسی کے تحت کسٹمز ڈیوٹی کے نظام میں اصلاحات کی جا رہی ہیں جبکہ کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے ریگولیٹری تقاضوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کی منظوری برآمدی لاگت میں کمی اور تجارتی سہولتوں میں اضافے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالی معاونت، برآمدکنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اور تجارتی پالیسی سازی میں نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ملکی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی مذاکرات اور چین کے ساتھ زرعی شعبے میں تعاون سے پاکستانی برآمدات کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ کراچی میں فوڈ ایگ 2026 بھی زرعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔

رانا احسان افضل نے کہا کہ آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، زراعت اور معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں برآمدات بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ صنعتی پیداوار، معیار اور مسابقتی صلاحیت میں بہتری کے ساتھ حکومت اور نجی شعبے کا تعاون برآمدی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کی سفارشات کو حکومتی تجارتی اصلاحات میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فہیم جہانگیر نے مؤثر اور مسلسل پالیسی سازی کی اہمیت پر روشنی ڈالی جبکہ ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ برآمدات میں مسلسل اضافہ پاکستان کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے تحقیق پر مبنی پالیسی سازی کو معاشی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

کانفرنس میں بہترین تحقیقی مقالے اور پوسٹرز پیش کرنے والے محققین کی خدمات کو بھی سراہا گیا اور انہیں نقد انعامات دیے گئے۔