پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں لازوال قربانیاں ،افغان سرزمین سے ہونیوالی دہشتگردی  ناقابل قبول، حکومت کے پاس خیبر پختو نخوا میں   ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا،  نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار

6

اسلام آباد،12اکتوبر  (اے پی پی):نائب  وزیراعظم ووزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے دہشت گردی کو خطے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کسی صورت قابل قبول نہیں،افغانستان   سے پاکستان پر حملے بند ہونے چاہئیں ،عوام کے جان و مال کے تحفظ ، قومی معیشت کے استحکام اور  دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہر صوبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہے،خیبر پختو نخوا میں ایمرجنسی لگانا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا ،حکومت کے پاس ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا،دھرنوں اور احتجاج کے باعث معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دن رات کوشاں ہیں ،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں،عالمی برادری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف  کرتے ہوئے اس  فتنے کے خلاف پاکستان کی مدد کرے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں   انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی ) کے زیر اہتمام پاکستان  میں  دہشت گردی کے بدلتے منظرنامے سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی خطے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج  ہے،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی ہے،پاکستان نے ہمت بہادری اور مضبوطی سے دہشت گردی کا سامنا کیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا،اس جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار سےزیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے،جعفر ایکسپریس اور بلوچستان میں مزدوروں کے اغوا اور شہادتوں کا سامنا کیا ہے ،دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان  کی  قربانی  کا  اعتراف کر نا  ہو گا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہر صوبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئے خطوط پر کام کیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دن رات کوشاں ہیں،چیف آف آرمی سٹاف  و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز  کر رہی ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت کے لیے افغانستان کے دورے بھی کیے ہیں، افغان رجیم پر مسلسل زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے لیے روکے، پاکستان کا افغانستان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، اگست 2025ء میں پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس بھی  ہوا لیکن افغان حکام نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔سرحد پار سے دہشت گرد دراندازی کر کے ہمارے جوانوں اور شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کی آمدو رفت روکنے کے لیے پاکستان افغان سرحد پر حفاظتی باڑ لگا چکا ہے۔ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان نے   انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کی بہت مدد کی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سر زمین سے  پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے،جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کا منصوبہ بھی افغانستان سے بنا، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کو اسلحہ سمیت ہر قسم کی امداد بند کرے۔ افغان سر زمین سے پاکستان پر حملے  بھی بند ہونےچاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بقائے باہمی اور پرامن ہمسائیگی کے اصول پر پختہ یقین رکھتا ہے،افغان حکام دہشت گردی کے معاملے پر اپنے وعدے نبھائیں، افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیئے ،عالمی برادری دہشت گردی کے فتنے کے خلاف پاکستان کی مدد کرے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ دھرنوں اور احتجاج کے باعث معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے،ماضی میں بھی دھرنے دے کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا، ہمیں دھرنوں کے باعث شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ   خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا ،حکومت کے پاس ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا، خیبر پختونخوا  میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

 نائب وزیر اعظم نے کہا کہ  پاکستان عالمی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مختلف فورمز پر کام کر رہا ہے، ہمیں اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکار بڑھانے کے لیے عالمی تعاون بھی  درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے،بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، مذہب کا لبادہ اوڑھ کر کسی کو دہشت گردی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے،اب دنیا پاکستان کو امن پسند ملک کے طور پر جانتی ہے ،خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے ہمیشہ کی طرح نامراد رہیں گے ۔پاکستان نے دنیا کے سامنے ہر قسم کی دہشت گردی اور اس کے حل کا طریقہ پیش کیا ہے۔  وزیر خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے  کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں قیام امن ہے، مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، دنیا کو دہشت گردی اور جنگوں سمیت بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔اس کا  ہیڈ کوارٹر ریاض میں قائم کیا گیا ہے۔مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے ۔