استنبول، 4 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارت، زرعی برآمدات اور صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ سمیت باہمی اقتصادی تعاون کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر تجارت نے پاکستانی باسمتی چاول کے مؤقف کی حمایت پر ترک حکومت کا شکریہ ادا کیا اور ترک کمپنیوں کو کراچی انڈسٹریل پارک میں ایک ہزار ایکڑ اراضی پر سرمایہ کاری اور صنعتی یونٹس قائم کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان میں دستیاب صنعتی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
جام کمال خان نے پاکستانی آم کی ترکیہ کو برآمدات بڑھانے کے لیے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے پر زور دیا، جس پر ترک وزیر تجارت نے پاکستانی آم کی درآمدات میں اضافے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ترک وزیر تجارت نے پاکستانی باسمتی چاول کی ترکیہ میں مؤثر برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ملاقات میں تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے اعلیٰ سطحی ترک وفد پاکستان بھیجنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارتی روابط، صنعتی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ذیلی ادارے ‘سیسرک’ کی ڈائریکٹر جنرل زہرہ زمرد سلچوک سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سیسرک نے اسلامی ممالک کے درمیان تجارت سے متعلق تحقیق اور رپورٹس کے حوالے سے بریفنگ دی۔
جام کمال خان نے کہا کہ درست اور قابلِ اعتماد تجارتی اعداد و شمار مؤثر پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہیں اور مستند معلومات کی بنیاد پر اسلامی ممالک کے درمیان تجارت کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے جامع تحقیق اور مؤثر حکمتِ عملی ضروری ہے۔ پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مکمل پرعزم ہے۔











